تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر مقرر

مجتبیٰ خامنہ ای ایران کے نئے سپریم لیڈر مقرر

تہران( مانیٹرنگ ڈیسک) ایران کے سرکاری میڈیا کے مطابق 56 سالہ مجتبیٰ خامنہ ای کو ملک کا نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا ہے۔ وہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں، جو امریکا اور اسرائیل کے مشترکہ حملے میں شہید ہو گئے تھے۔رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو ایران کی مجلس خبرگان نے نئے سپریم لیڈر کے طور پر منتخب کیا، جو 88 ارکان پر مشتمل مذہبی ادارہ ہے اور آئین کے مطابق سپریم لیڈر کے انتخاب کا اختیار رکھتا ہے۔علی خامنہ ای 28 فروری کو تہران میں اپنے کمپاؤنڈ پر ہونے والے فضائی حملے میں ہلاک ہوئے تھے، جس میں مجتبیٰ خامنہ ای کی والدہ، اہلیہ اور ایک بہن بھی شہید ہو گئی تھیں، تاہم مجتبیٰ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔مجلس خبرگان نے ایرانی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نئی قیادت کی حمایت کریں اور قومی اتحاد کو برقرار رکھیں۔مجتبیٰ خامنہ ای کئی دہائیوں سے ایرانی قیادت کے قریبی حلقوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور انہیں ایران کی طاقتور فوجی تنظیم اسلامی پاسداران انقلاب (IRGC) کے ساتھ قریبی تعلق رکھنے والا رہنما سمجھا جاتا ہے۔انہوں نے کبھی کسی عوامی انتخاب میں حصہ نہیں لیا اور عمومی تقریروں یا سیاسی بیانات سے بھی گریز کیا، جس کی وجہ سے بہت سے ایرانیوں نے کبھی ان کی آواز نہیں سنی۔گزشتہ برسوں سے انہیں اپنے والد کے ممکنہ جانشین کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی تقرری سے ایران میں خاندانی طرز کی قیادت کا تاثر پیدا ہو سکتا ہے، جو 1979 کے ایرانی انقلاب سے پہلے کی پہلوی بادشاہت کی یاد دلاتا ہے۔مجتبیٰ خامنہ ای پر ماضی میں حکومت مخالف مظاہروں کو دبانے کے الزامات بھی رہے ہیں، خاص طور پر 2009 کی گرین موومنٹ کے دوران جب متنازع صدارتی انتخابات کے بعد ملک بھر میں احتجاج ہوا۔فی الحال ایران میں شدید جنگی صورتحال اور انٹرنیٹ پابندیوں کے باعث نئی قیادت سے متعلق مزید تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔