نیویارک ( ویب ڈیسک) چاند کی سطح پر 10 ہزار سے زائد نسبتاً نئی فالٹ لائنز اور دراڑوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے اس کے سکڑنے کے عمل کے بارے میں اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔ 14 اکتوبر 2026 کو سائنسی جریدے دی پلینیٹری سائنس جرنل میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں چاند کے حجم میں کمی کا اب تک کا مفصل اندازہ پیش کیا گیا ہے۔تحقیق کے مطابق گزشتہ 40 کروڑ سے 80 کروڑ سال کے دوران چاند کے نصف قطر میں تقریباً 45 میٹر کی کمی واقع ہوئی۔ محققین کا اندازہ ہے کہ اگر چاند کے سکڑنے کی رفتار کو وقت کے ساتھ یکساں تصور کیا جائے تو اس کا نصف قطر ہر 10 لاکھ سال میں تقریباً 6 سے 11 سینٹی میٹر کم ہورہا ہے۔تحقیق کے لیے تھامس آر واٹرز کی سربراہی میں محققین کی ٹیم نے ناسا کے لونر ریکونیسنس آربیٹر (ایل آر او) پر نصب کیمرے سے حاصل ہونے والی تصاویر اور مشاہدات کا تجزیہ کیا۔ تھامس واٹرز کا تعلق سمتھ سونین نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے مرکز برائے ارضیاتی و سیاروی مطالعات سے ہے۔محققین نے چاند کی سطح پر ہزاروں ایسی زمینی ساختوں کا نقشہ تیار کیا جنہیں لوبیٹ اسکارپس اور چھوٹی میری رجیز کہا جاتا ہے۔ یہ ساختیں سطح پر دباؤ اور سکڑاؤ کی قوتوں کے نتیجے میں وجود میں آتی ہیں۔تحقیق کے مطابق یہ ساختیں چاند کے وسیع علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں، جن میں بلند پہاڑی علاقے اور سطح پر موجود ہموار میدان بھی شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چاند کے سکڑنے سے وابستہ یہ ساختیں کسی ایک مخصوص علاقے تک محدود نہیں بلکہ اس کی سطح پر وسیع پیمانے پر موجود ہیں۔