تازہ ترین
سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کرگئے شہباز شریف کی رانا مبشر اقبال سے خالہ زاد بھائی کے انتقال پر تعزیت عوام کو ریلیف نہ ملا تو فیصلے سڑکوں پر ہوں گے: حافظ نعیم الرحمٰن علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین نیازی کی نظربندی میں 30 روز کی توسیع خلائی کچرے سے نمٹنے کے لیے برطانیہ کا روبوٹک مشن تیار کرنے کا منصوبہ یوٹیوب کا نیا فیچر، صارفین اپنی پسند کی ویڈیوز کی فیڈ بنا سکیں گے واٹس ایپ ویب اور ڈیسک ٹاپ کے ذریعے سائبر حملوں کا ہائی الرٹ جاری کلفٹن کے ساحل پر سمندری کچھوا مردہ ملا، پلاسٹک کچرے سے حیات کو خطرہ فیشن شو میں عفت عمر کے ساتھ دلچسپ واقعہ، ویڈیو وائرل ہونے پر ٹرولنگ دانیال ظفر کا صحت پر توجہ دینے کیلئے شوبز سے عارضی وقفے کا اعلان درفشاں سلیم اور ماورا حسین کے لہنگوں میں مماثلت، تصاویر وائرل ابتدائی فلموں کی ناکامی نے فلمی کیریئر متاثر کیا، دیا مرزا کا انکشاف ایل کلاسیکو: ریال میڈرڈ نے بارسلونا کی مسلسل فتوحات کا سلسلہ روک دیا سہ ملکی سیریز: حارث رؤف کے مشورے پر شاداب خان نے ریویو لیا صائم ایوب کی درخواست منظور، صاحبزادہ فرحان قومی اسکواڈ میں شامل دنیا کا ہر بولر چھکے کھاتا ہے، تنقید سے فرق نہیں پڑتا: حارث رؤف
پاکستان خبر

چاند سکڑنے لگا، سائنس دانوں کو دس ہزار نئی دراڑیں مل گئیں

چاند سکڑنے لگا، سائنس دانوں کو دس ہزار نئی دراڑیں مل گئیں

نیویارک ( ویب ڈیسک) چاند کی سطح پر 10 ہزار سے زائد نسبتاً نئی فالٹ لائنز اور دراڑوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جس سے اس کے سکڑنے کے عمل کے بارے میں اہم معلومات سامنے آئی ہیں۔ 14 اکتوبر 2026 کو سائنسی جریدے دی پلینیٹری سائنس جرنل میں شائع ہونے والی نئی تحقیق میں چاند کے حجم میں کمی کا اب تک کا مفصل اندازہ پیش کیا گیا ہے۔تحقیق کے مطابق گزشتہ 40 کروڑ سے 80 کروڑ سال کے دوران چاند کے نصف قطر میں تقریباً 45 میٹر کی کمی واقع ہوئی۔ محققین کا اندازہ ہے کہ اگر چاند کے سکڑنے کی رفتار کو وقت کے ساتھ یکساں تصور کیا جائے تو اس کا نصف قطر ہر 10 لاکھ سال میں تقریباً 6 سے 11 سینٹی میٹر کم ہورہا ہے۔تحقیق کے لیے تھامس آر واٹرز کی سربراہی میں محققین کی ٹیم نے ناسا کے لونر ریکونیسنس آربیٹر (ایل آر او) پر نصب کیمرے سے حاصل ہونے والی تصاویر اور مشاہدات کا تجزیہ کیا۔ تھامس واٹرز کا تعلق سمتھ سونین نیشنل ایئر اینڈ اسپیس میوزیم کے مرکز برائے ارضیاتی و سیاروی مطالعات سے ہے۔محققین نے چاند کی سطح پر ہزاروں ایسی زمینی ساختوں کا نقشہ تیار کیا جنہیں لوبیٹ اسکارپس اور چھوٹی میری رجیز کہا جاتا ہے۔ یہ ساختیں سطح پر دباؤ اور سکڑاؤ کی قوتوں کے نتیجے میں وجود میں آتی ہیں۔تحقیق کے مطابق یہ ساختیں چاند کے وسیع علاقوں میں پھیلی ہوئی ہیں، جن میں بلند پہاڑی علاقے اور سطح پر موجود ہموار میدان بھی شامل ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چاند کے سکڑنے سے وابستہ یہ ساختیں کسی ایک مخصوص علاقے تک محدود نہیں بلکہ اس کی سطح پر وسیع پیمانے پر موجود ہیں۔