تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2026 ترمیمی بل منظور کر لیا

قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2026 ترمیمی بل منظور کر لیا

اسلام آباد( پاکستان خبر) قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت الیکشنز ترمیمی ایکٹ 2026 فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کی جانب سے پیش کیے گئے بل میں سیکشن 9، 66، 104، 104A، 138، 155، 202، 212 اور 232 میں ترمیم شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق مختلف معاملات میں "سپریم کورٹ" کی جگہ "فیڈرل آئینی عدالت" کا دائرہ اختیار مقرر کیا گیا ہے۔ترمیم کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو اراکین کے اثاثوں کو عوامی سطح پر شائع نہ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، اور ذاتی سلامتی یا سیکورٹی خطرے کی صورت میں اثاثے زیادہ سے زیادہ ایک سال تک خفیہ رکھے جا سکیں گے۔ البتہ مکمل اور درست تفصیلات الیکشن کمیشن کو خفیہ طور پر جمع کرانا لازم ہوگا۔بل میں شفافیت اور بنیادی حقوق کے درمیان توازن پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ اراکین اسمبلی اور سینیٹ کے اثاثوں اور واجبات کی معلومات احتساب کے لیے دستیاب رہیں، مگر غیر ضروری انکشافات سے ارکان اور اہل خانہ کی سیکورٹی کو خطرہ نہ ہو۔اجلاس کے دوران قومی اسمبلی میں دیگر بلز بھی پیش کیے گئے، جن میں ضابطہ فوجداری (CRPC) ترمیمی بل 2026، خواتین کے مخصوص نشستوں کے خاتمے سے متعلق آئینی ترمیمی بل، دستور ترمیمی بل 2026 اور فاطمہ یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025 شامل ہیں۔اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے بل پر اعتراضات بھی کیے گئے، تاہم وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی کہ آئینی معاملات اور اپیلیں اب فیڈرل آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آئیں گی، اور الیکشن کمیشن کے فیصلے آئینی عدالت کے ذریعے جائزہ لیے جائیں گے۔اگر چاہیں تو میں اسی خبر کا **مزید مختصر بریکنگ نیوز یا موبائل نوٹیفکیشن اسٹائل ورژن** بھی بنا دوں جو فوری پڑھنے کے لیے موزوں ہو۔