تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2026 ترمیمی بل منظور کر لیا

قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2026 ترمیمی بل منظور کر لیا

اسلام آباد( پاکستان خبر) قومی اسمبلی نے الیکشنز ایکٹ 2017 میں ترمیم کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت الیکشنز ترمیمی ایکٹ 2026 فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔ رکن قومی اسمبلی شازیہ مری کی جانب سے پیش کیے گئے بل میں سیکشن 9، 66، 104، 104A، 138، 155، 202، 212 اور 232 میں ترمیم شامل کی گئی ہے، جس کے مطابق مختلف معاملات میں "سپریم کورٹ" کی جگہ "فیڈرل آئینی عدالت" کا دائرہ اختیار مقرر کیا گیا ہے۔ترمیم کے تحت اسپیکر قومی اسمبلی یا چیئرمین سینیٹ کو اراکین کے اثاثوں کو عوامی سطح پر شائع نہ کرنے کا اختیار حاصل ہوگا، اور ذاتی سلامتی یا سیکورٹی خطرے کی صورت میں اثاثے زیادہ سے زیادہ ایک سال تک خفیہ رکھے جا سکیں گے۔ البتہ مکمل اور درست تفصیلات الیکشن کمیشن کو خفیہ طور پر جمع کرانا لازم ہوگا۔بل میں شفافیت اور بنیادی حقوق کے درمیان توازن پیدا کرنے پر زور دیا گیا ہے، تاکہ اراکین اسمبلی اور سینیٹ کے اثاثوں اور واجبات کی معلومات احتساب کے لیے دستیاب رہیں، مگر غیر ضروری انکشافات سے ارکان اور اہل خانہ کی سیکورٹی کو خطرہ نہ ہو۔اجلاس کے دوران قومی اسمبلی میں دیگر بلز بھی پیش کیے گئے، جن میں ضابطہ فوجداری (CRPC) ترمیمی بل 2026، خواتین کے مخصوص نشستوں کے خاتمے سے متعلق آئینی ترمیمی بل، دستور ترمیمی بل 2026 اور فاطمہ یونیورسٹی برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی بل 2025 شامل ہیں۔اس موقع پر اپوزیشن کی جانب سے بل پر اعتراضات بھی کیے گئے، تاہم وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے وضاحت کی کہ آئینی معاملات اور اپیلیں اب فیڈرل آئینی عدالت کے دائرہ اختیار میں آئیں گی، اور الیکشن کمیشن کے فیصلے آئینی عدالت کے ذریعے جائزہ لیے جائیں گے۔اگر چاہیں تو میں اسی خبر کا **مزید مختصر بریکنگ نیوز یا موبائل نوٹیفکیشن اسٹائل ورژن** بھی بنا دوں جو فوری پڑھنے کے لیے موزوں ہو۔