تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

لیتھیم نکالنے کا نیا ماحول دوست طریقہ تیار، توانائی ذخائر کی صنعت میں بڑی پیش رفت

لیتھیم نکالنے کا نیا ماحول دوست طریقہ تیار، توانائی ذخائر کی صنعت میں بڑی پیش رفت

 لاہور( ویب ڈیسک)الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی پیداوار اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر بیٹری سسٹمز کی ضرورت کے باعث لیتھیم کی عالمی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، تاہم روایتی طریقوں سے اس کی پیداوار مہنگی، سست اور ماحول کے لیے نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔اس پس منظر میں کولمبیا یونیورسٹی اسکول آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے محققین نے لیتھیم نکالنے کا ایک نیا جدید طریقہ تیار کیا ہے جسے “سوئچ ایبل سالوینٹ سلیکٹو ایکسٹریکشن” یا S3E کہا جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق یہ طریقہ زیرِ زمین نمکین پانی سے براہِ راست لیتھیم کو الگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حتیٰ کہ ان ذخائر سے بھی جہاں لیتھیم کی مقدار انتہائی کم یا دیگر معدنیات کے ساتھ ملی ہوئی ہو۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ نظام خاص درجہ حرارت پر ردعمل دینے والے سالوینٹس استعمال کرتا ہے، جو غیر ضروری معدنیات کو مؤثر انداز میں الگ کرتے ہوئے لیتھیم کو زیادہ تیزی سے حاصل کرتا ہے۔تجربات کے دوران یہ ٹیکنالوجی روایتی طریقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ثابت ہوئی، جہاں اس نے سوڈیم کے مقابلے میں 10 گنا اور پوٹاشیم کے مقابلے میں 12 گنا زیادہ مؤثر طریقے سے لیتھیم کو الگ کیا۔ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کی صنعت میں اہم تبدیلیاں لا سکتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف پیداوار بڑھا سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی اثرات کو بھی کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔