تازہ ترین
وزیراعظم کا گلگت بلتستان حکومت کے ساتھ تعاون بڑھانے کا عزم بلوچستان میں پانچ افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال، کئی علاقوں کے لیے الرٹ جاری خیبرپختونخوا میں بارشوں کی تباہی، 12 افراد جاں بحق، 15 زخمی حوثی دھمکیوں پر سعودی عرب کا سخت ردعمل، بحری جہازوں کا تحفظ یقینی بنانے کا اعلان بھارت میں طلبہ احتجاج شدت اختیار کر گیا، مودی حکومت پر تنقید نورستان میں تباہ کن سیلاب، 20 افراد جاں بحق، 100 لاپتا ایران جنگ، 100 امریکی فوجی زخمی ہونے کی تصدیق آئی ایم ایف کی گیس قرضوں کے خاتمے کے لیے نئی شرائط امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈیوں میں تیل اور حصص کی قیمتیں متاثر وفاق نے صوبوں سے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت رپورٹ طلب کر لی امریکا کے خام تیل ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے رونالڈو کی ایک ویڈیو لائک کرنے پر سوشل میڈیا پر بحث میسی کا ورلڈ کپ شکست پر دکھ، زخم بھرنے میں وقت لگے گا فیفا اختلافات، یوئیفا صدر ورلڈ کپ فائنل میں شریک نہ ہوئے پاکستان ہاکی کی بحالی کا سال ثابت ہو رہا ہے، پی ایچ ایف
پاکستان خبر

لیتھیم نکالنے کا نیا ماحول دوست طریقہ تیار، توانائی ذخائر کی صنعت میں بڑی پیش رفت

لیتھیم نکالنے کا نیا ماحول دوست طریقہ تیار، توانائی ذخائر کی صنعت میں بڑی پیش رفت

 لاہور( ویب ڈیسک)الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی پیداوار اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر بیٹری سسٹمز کی ضرورت کے باعث لیتھیم کی عالمی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، تاہم روایتی طریقوں سے اس کی پیداوار مہنگی، سست اور ماحول کے لیے نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔اس پس منظر میں کولمبیا یونیورسٹی اسکول آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے محققین نے لیتھیم نکالنے کا ایک نیا جدید طریقہ تیار کیا ہے جسے “سوئچ ایبل سالوینٹ سلیکٹو ایکسٹریکشن” یا S3E کہا جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق یہ طریقہ زیرِ زمین نمکین پانی سے براہِ راست لیتھیم کو الگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حتیٰ کہ ان ذخائر سے بھی جہاں لیتھیم کی مقدار انتہائی کم یا دیگر معدنیات کے ساتھ ملی ہوئی ہو۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ نظام خاص درجہ حرارت پر ردعمل دینے والے سالوینٹس استعمال کرتا ہے، جو غیر ضروری معدنیات کو مؤثر انداز میں الگ کرتے ہوئے لیتھیم کو زیادہ تیزی سے حاصل کرتا ہے۔تجربات کے دوران یہ ٹیکنالوجی روایتی طریقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ثابت ہوئی، جہاں اس نے سوڈیم کے مقابلے میں 10 گنا اور پوٹاشیم کے مقابلے میں 12 گنا زیادہ مؤثر طریقے سے لیتھیم کو الگ کیا۔ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کی صنعت میں اہم تبدیلیاں لا سکتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف پیداوار بڑھا سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی اثرات کو بھی کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔