تازہ ترین
وزیراعظم شہباز شریف کا چین کے امن ایجنڈے کی حمایت کا اعلان، بیجنگ میں اعلیٰ سطحی ملاقاتیں پشاور سے کراچی نئی عوام ایکسپریس ٹرین کا افتتاح، جدید سہولیات سے آراستہ سروس شروع وزیراعلیٰ بلوچستان کی زخمیوں کی عیادت، بہترین علاج کی ہدایت معصوم بلوچ عوام فتنۃ الہندوستان کی بربریت کا ایک بار پھر شکار یوم عرفہ پر نایاب فلکیاتی منظر: سورج خانہ کعبہ کے عین اوپر آ جائے گا ایران اور امریکا مذاکرات: معاہدے میں پیش رفت، حتمی منظوری میں تاخیر کا امکان غزہ میں فضائی حملہ: ایک ہی خاندان کے تین افراد شہید، امدادی مرکز کے قریب بھی شہری جاں بحق پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس 1 لاکھ 71 ہزار کی سطح عبور کر گیا بنگلادیش کا پاسپورٹ پالیسی میں نیا فیصلہ، ’سوائے اسرائیل‘ کی عبارت دوبارہ شامل کرنے کا اعلان 5.8 ارب روپے کا آئی پی او چند سیکنڈز میں سبسکرائب، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئی لسٹنگز پر زور پاکستان اور چین کے درمیان راک سالٹ شعبے میں طویل المدتی تعاون کا معاہدہ پاکستان میں شمسی توانائی میں تیزی، قومی گرڈ اور کوئلے کی پالیسی پر سوالات آئی پی ایل میچ میں ناخوشگوار واقعہ، چیئر لیڈرز سے نامناسب رویے پر سیکیورٹی متحرک حمزہ شیراز عالمی چیمپئن بن گئے، ڈبلیو بی او سپر مڈل ویٹ ٹائٹل اپنے نام کر لیا ایشین جونیئر اسکواش چیمپئن شپ 2026: پاکستان کے نعمان علی خان نے ٹائٹل اپنے نام کر لیا پاکستان ویمن ٹیم آئرلینڈ روانہ، ورلڈ کپ سے قبل سہ ملکی سیریز میں شرکت
پاکستان خبر

لیتھیم نکالنے کا نیا ماحول دوست طریقہ تیار، توانائی ذخائر کی صنعت میں بڑی پیش رفت

لیتھیم نکالنے کا نیا ماحول دوست طریقہ تیار، توانائی ذخائر کی صنعت میں بڑی پیش رفت

 لاہور( ویب ڈیسک)الیکٹرک گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی پیداوار اور قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں بڑے پیمانے پر بیٹری سسٹمز کی ضرورت کے باعث لیتھیم کی عالمی مانگ تیزی سے بڑھ رہی ہے، تاہم روایتی طریقوں سے اس کی پیداوار مہنگی، سست اور ماحول کے لیے نقصان دہ سمجھی جاتی ہے۔اس پس منظر میں کولمبیا یونیورسٹی اسکول آف انجینئرنگ اینڈ اپلائیڈ سائنسز کے محققین نے لیتھیم نکالنے کا ایک نیا جدید طریقہ تیار کیا ہے جسے “سوئچ ایبل سالوینٹ سلیکٹو ایکسٹریکشن” یا S3E کہا جاتا ہے۔تحقیق کے مطابق یہ طریقہ زیرِ زمین نمکین پانی سے براہِ راست لیتھیم کو الگ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، حتیٰ کہ ان ذخائر سے بھی جہاں لیتھیم کی مقدار انتہائی کم یا دیگر معدنیات کے ساتھ ملی ہوئی ہو۔محققین کا کہنا ہے کہ یہ نظام خاص درجہ حرارت پر ردعمل دینے والے سالوینٹس استعمال کرتا ہے، جو غیر ضروری معدنیات کو مؤثر انداز میں الگ کرتے ہوئے لیتھیم کو زیادہ تیزی سے حاصل کرتا ہے۔تجربات کے دوران یہ ٹیکنالوجی روایتی طریقوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر ثابت ہوئی، جہاں اس نے سوڈیم کے مقابلے میں 10 گنا اور پوٹاشیم کے مقابلے میں 12 گنا زیادہ مؤثر طریقے سے لیتھیم کو الگ کیا۔ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت مستقبل میں الیکٹرک گاڑیوں اور توانائی ذخیرہ کرنے کی صنعت میں اہم تبدیلیاں لا سکتی ہے، کیونکہ یہ نہ صرف پیداوار بڑھا سکتی ہے بلکہ ماحولیاتی اثرات کو بھی کم کرنے میں مددگار ہو سکتی ہے۔