تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

تجارتی تنازعات کے حل کا نیا نظام نافذ

تجارتی تنازعات کے حل کا نیا نظام نافذ

اسلام آباد ( کامرس ڈیسک) حکومت نے ملکی و بین الاقوامی تجارتی تنازعات کے حل کو مؤثر اور شفاف بنانے کے لیے نئے قواعد نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولوشن کمیشن کو کم از کم پانچ ہزار امریکی ڈالر مالیت کے تنازعات کی سماعت کا اختیار دے دیا گیا ہے۔وزارت تجارت کے نوٹیفکیشن کے مطابق ٹریڈ ڈسپیوٹ ریزولوشن رولز دو ہزار چھبیس فوری طور پر نافذ العمل ہو گئے ہیں، جن کا مقصد تنازعات کو تیز رفتار طریقے سے نمٹانا ہے۔ نئے نظام کے تحت درخواستیں بذریعہ ڈاک کے ساتھ ساتھ آن لائن اور ای میل کے ذریعے بھی جمع کروائی جا سکیں گی جبکہ بیرون ملک پاکستانیوں کے لیے خصوصی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔قواعد کے مطابق درخواست کے ساتھ تمام ضروری دستاویزات، شواہد اور فیس جمع کروانا لازمی ہوگا اور کارروائی انگریزی زبان میں کی جائے گی، کمیشن کو یہ اختیار بھی حاصل ہوگا کہ وہ ناقص یا بے بنیاد درخواستوں کو مسترد کر سکے۔نئے طریقہ کار کے تحت فریقین کو پہلے مرحلے میں مذاکرات کے ذریعے تنازع حل کرنے کی ترغیب دی جائے گی جس کے لیے تیس دن کی مدت مقرر کی گئی ہے، اگر معاملہ حل نہ ہو سکے تو اسے مصالحت، ثالثی یا کمیشن کے حتمی فیصلے کے لیے بھیجا جائے گا۔اہم شق کے مطابق ایک سو ملین امریکی ڈالر سے زائد مالیت کے تنازعات کو ہائی کورٹ کے کمرشل بینچ میں بھجوایا جائے گا تاکہ بڑے مقدمات کو مؤثر انداز میں نمٹایا جا سکے۔