نیویارک( ویب ڈیسک) معروف ٹیکنالوجی ادارے گوگل نے خبردار کیا ہے کہ سائبر مجرموں نے پہلی مرتبہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے انتہائی پیچیدہ اور خفیہ نوعیت کے سائبر حملوں کی منصوبہ بندی کی ہے، جسے سائبر سکیورٹی کے شعبے میں ایک تشویشناک پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔گوگل کے خطرات کی نگرانی کرنے والے شعبے کی رپورٹ کے مطابق حملہ آوروں نے جدید مصنوعی ذہانت کے نظام کا غلط استعمال کرتے ہوئے ایسا حفاظتی نقص دریافت کرنے کی کوشش کی جو نظام میں موجود ہونے کے باوجود عام نگرانی میں سامنے نہیں آتا۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس قسم کے پوشیدہ نقائص کی نشاندہی کرنا ماہرین کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا، تاہم گوگل کے ماہرین نے بروقت اقدامات کرتے ہوئے ممکنہ بڑے حملے کو ناکام بنا دیا۔ایک اور جائزے کے مطابق مصنوعی ذہانت سے چلنے والے خودکار پروگراموں کے ذریعے دنیا بھر میں ہونے والے سائبر حملوں میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گزشتہ ایک سال کے دوران ایسے حملوں کی تعداد لاکھوں سے بڑھ کر کروڑوں تک جا پہنچی ہے، جس سے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جہاں بڑی ٹیکنالوجی کمپنیاں حفاظتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے جدید مصنوعی ذہانت تیار کر رہی ہیں، وہیں سائبر مجرم بھی انہی ٹیکنالوجیز تک رسائی حاصل کرکے انہیں غیر قانونی اور نقصان دہ مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔سائبر سکیورٹی کے ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت مستقبل میں ڈیجیٹل تحفظ کے لیے اہم کردار ادا کرے گی، تاہم اس کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے مؤثر حفاظتی اقدامات اور مسلسل نگرانی ناگزیر ہے۔