تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

لانینا یا ال نینا نہیں، پاکستان میں سردی معمول کے مطابق قرار

لانینا یا ال نینا نہیں، پاکستان میں سردی معمول کے مطابق قرار

کراچی( پاکستان خبر)ال نینا اور لانینا بحرالکاہل کی اتھاہ گہرائیوں سے جڑے موسمی مظاہر ہیں، جو پاکستان سے ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود ملک میں شدید گرمی، سخت سردی، بارشوں کی کمی اور تباہ کن سیلابوں کی شکل میں اثر انداز ہوتے ہیں۔ال نینا سمندر کے زیادہ درجہ حرارت جبکہ لانینا سمندر کے سرد ہونے کی علامت ہے۔ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا صارفین نے کراچی سمیت ملک بھر میں سردی کی لہر اور برفباری کو لانینا کے متحرک ہونے سے جوڑ دیا، تاہم محکمہ موسمیات نے اس تاثر کی نفی کی ہے۔ڈپٹی ڈائریکٹر اور ترجمان محکمہ موسمیات انجم نذیر ضیغم کا کہنا ہے کہ موجودہ سردی کسی غیر معمولی یا لانینا سے متعلق نہیں، بلکہ ملک میں موسمی حالات معمول کے مطابق ہیں۔ انہوں نے صارفین سے محتاط رہنے اور قابل اعتماد ذرائع سے معلومات حاصل کرنے کی تلقین کی۔ماہرین کے مطابق موسم سرما میں متحرک لانینا بارشوں کے راستے کو روک دیتی ہے، اور حالیہ بارشیں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ لانینا اس وقت کمزور ہے۔ پاکستان ان چند ممالک میں شامل ہے جو عالمی موسمیاتی نظام میں معمولی تبدیلی سے بھی شدید متاثر ہوتے ہیں، اور بحرالکاہل میں پیدا ہونے والے یہ موسمی مظاہر ہزاروں میل دور ہونے کے باوجود ملک میں براہِ راست اثر ڈال سکتے ہیں۔