تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

تیل کی قیمتوں میں کمی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی

تیل کی قیمتوں میں کمی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد یہ تقریباً 77.73 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔ اس سے قبل خطے میں کشیدگی کے باعث قیمتیں 81 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی تھیں۔معاہدے کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔ جاپان کا نکئی 225 اور جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، جن میں بالترتیب 2 فیصد اور 1.7 فیصد اضافہ ہوا۔تائیوان کی مارکیٹ میں بھی 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.7 فیصد کمی کا شکار رہا۔ اسی طرح امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی 1.3 فیصد تک بہتری دیکھی گئی۔رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کے کھولنے اور بحری پابندیوں کے خاتمے سے متعلق اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم شپنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ صورتحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں اور عالمی تجارت میں کچھ غیر یقینی کیفیت برقرار ہے۔