تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

تیل کی قیمتوں میں کمی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی

تیل کی قیمتوں میں کمی، ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں تیزی

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی جبکہ ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے، جس کی وجہ امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ قرار دیا جا رہا ہے۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت میں 2.3 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد یہ تقریباً 77.73 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔ اس سے قبل خطے میں کشیدگی کے باعث قیمتیں 81 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی تھیں۔معاہدے کے بعد سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ ہوا، جس کے نتیجے میں ایشیائی اسٹاک مارکیٹس میں مثبت رجحان دیکھا گیا۔ جاپان کا نکئی 225 اور جنوبی کوریا کا کوسپی انڈیکس ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے، جن میں بالترتیب 2 فیصد اور 1.7 فیصد اضافہ ہوا۔تائیوان کی مارکیٹ میں بھی 1.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ ہانگ کانگ کا ہینگ سینگ انڈیکس 1.7 فیصد کمی کا شکار رہا۔ اسی طرح امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی 1.3 فیصد تک بہتری دیکھی گئی۔رپورٹس کے مطابق معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کے کھولنے اور بحری پابندیوں کے خاتمے سے متعلق اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم شپنگ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ صورتحال ابھی مکمل طور پر واضح نہیں اور عالمی تجارت میں کچھ غیر یقینی کیفیت برقرار ہے۔