تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

پاکستان کلائمٹ چینج سے نمٹنے کے لیے عالمی فنڈز حاصل کرنے کیلئے سر گرم

پاکستان کلائمٹ چینج سے نمٹنے کے لیے عالمی فنڈز حاصل کرنے کیلئے سر گرم

اسلام آباد( پاکستان خبر)او آئی سی سی کے تحت پاکستان میں چوتھی کلائمٹ کانفرنس 2026 کا انعقاد کیا گیا، جس میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے خطرات پر روشنی ڈالی گئی۔ کانفرنس میں کہا گیا کہ کلائمٹ کے مسائل اب پاکستان کے لیے بھی ایک اہم چیلنج بن چکے ہیں۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سال 2022 کے سیلاب نے واضح کر دیا کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہو رہا ہے۔ یہ سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم کلائمٹ چینج کی روک تھام کے لیے مشترکہ اقدامات کریں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت مختلف اقدامات کر رہی ہے اور کانفرنس کا مقصد آگاہی بڑھانا اور مسائل کے حل تلاش کرنا ہے۔ کانفرنس میں توانائی، مالیات اور ماحولیات کے ماہرین بھی شریک ہوئے۔انہوں نے مزید کہا کہ موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے آئی ایم ایف کے 1.3 ارب ڈالر کے کلائمٹ فنڈ، عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک کی کلائمٹ فیسیلیٹی موجود ہے۔ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے خطرات کو کم کرنے کے منصوبے بھی تیار ہیں۔وزیر خزانہ نے بتایا کہ عالمی بینک کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے 10 سالہ پروگرام میں پاکستان شامل ہے، اور اسی نوعیت کی سہولیات ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور دیگر عالمی اداروں کی طرف سے بھی دستیاب ہیں۔