لاہور ( سپورٹس ڈیسک) فیفا اور پاکستان فٹبال فیڈریشن (پی ایف ایف) کے حکام کی مشترکہ پریس کانفرنس میں پاکستان فٹبال کے انتظامی ڈھانچے، اصلاحات اور مستقبل کے لائحہ عمل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔فیفا کے ہیڈ آف ممبر ایسوسی ایشنز گورننس رولف ٹینر نے کہا کہ پاکستان میں فٹبال کی بہتری کے لیے گورننس کا نظام مضبوط اور مؤثر بنانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق دو روزہ مشاورت کے دوران مختلف اسٹیک ہولڈرز سے ملاقاتیں کی گئیں، جس کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ پی ایف ایف میں فوری اصلاحات ناگزیر ہیں۔انہوں نے کہا کہ امید ہے پاکستان جلد اپنے آئین میں ضروری ترامیم کرے گا تاکہ اسے جدید اور بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ پی ایف ایف کے معاملات میں کسی تیسرے فریق کی مداخلت قابل قبول نہیں ہوگی جبکہ مالی امور کا جائزہ فیفا کی متعلقہ کمیٹی لے رہی ہے۔فیفا نمائندے کے مطابق پاکستان میں فٹبال درست سمت میں آگے بڑھ رہا ہے، تاہم اس کی مزید ترقی کے لیے تمام فریقین کو مثبت کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ آئینی اصلاحات کے ذریعے اسٹیک ہولڈرز کو مزید بااختیار بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کھیل کے معیار میں بہتری آئے۔اس موقع پر پی ایف ایف کے صدر محسن گیلانی نے کہا کہ 2013 کے بعد فیڈریشن کے آئین میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں کی گئی، اس لیے فیفا کی ہدایات پر عملدرآمد ضروری ہے۔ ان کے مطابق عالمی فٹبال کے ساتھ ہم آہنگ نہ ہونے کی صورت میں پاکستان میں یہ کھیل مزید پیچھے رہ سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فیفا پاکستان میں فٹبال کی بہتری کے لیے اصلاحات پر زور دے رہا ہے جبکہ نارملائزیشن کمیٹی کا آڈٹ بھی فیفا کرے گا۔ ان کے مطابق پاکستانی ٹیمیں بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کر رہی ہیں اور ڈومیسٹک سطح پر فٹبال کے فروغ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔محسن گیلانی نے اعلان کیا کہ جلد پاکستان فٹبال لیگ کا انعقاد کیا جائے گا۔ ان کے مطابق محدود فنڈنگ کے باوجود فیڈریشن ملک میں فٹبال کی ترقی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ مجوزہ آئینی ترامیم میں ان کے اختیارات میں اضافہ نہیں کیا گیا اور ان کی خواہش ہے کہ پاکستان فٹبال عالمی سطح پر بہتر نتائج حاصل کرے۔