تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

پاکستان اور آئی ایم ایف کے تیسرے اقتصادی جائزے کا آغاز 25 فروری کو متوقع

پاکستان اور آئی ایم ایف کے تیسرے اقتصادی جائزے کا آغاز 25 فروری کو متوقع

اسلام آباد( کامرس ڈیسک)پاکستان اور عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف کے درمیان تیسرے اقتصادی جائزے پر مذاکرات رواں ماہ کے آخری عشرے میں شروع ہوں گے، جس کے لیے آئی ایم ایف جائزہ مشن 25 فروری کو پاکستان کا دورہ کرے گا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف وفد جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران ملک کی معاشی کارکردگی اور مقررہ اہداف پر نظر ثانی کرے گا۔ مشن کو ٹیکس اصلاحات، توانائی کے شعبے، مانیٹری پالیسی اور زرمبادلہ کے ذخائر پر تفصیلی بریفنگ دی جائے گی۔وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایا کہ پرائمری بجٹ سرپلس، صوبائی کیش سرپلس اور صوبائی ٹیکس ہدف حاصل کر لیا گیا، تاہم جولائی تا دسمبر 2025 کا ٹیکس ہدف 329 ارب روپے کم رہا۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے چھ ماہ کے دوران 6 ہزار 161 ارب روپے ٹیکس جمع کیے، جبکہ صوبوں نے ایک ہزار 179 ارب روپے کیش سرپلس فراہم کی اور جولائی تا دسمبر 568 ارب روپے سے زائد ٹیکس جمع کیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو پاکستان کے پی آئی اے سمیت نجکاری پروگرام میں پیش رفت سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔ مذاکرات کی کامیابی پر ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری سے پاکستان کو 1.2 ارب ڈالر موصول ہوں گے، جبکہ ای ایف ایف پروگرام سے ایک ارب اور کلائمیٹ فنانسنگ کے تحت 20 کروڑ ڈالر کی قسط بھی حاصل ہوگی۔ دونوں پروگرامز کے تحت اب تک پاکستان کو مجموعی طور پر 3.3 ارب ڈالر فراہم کیے جا چکے ہیں۔