تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

ایران پر حملوں کے بعد پاکستان ائیرٹریفک کنٹرول ہائی الرٹ جاری

ایران پر حملوں کے بعد پاکستان ائیرٹریفک کنٹرول  ہائی الرٹ جاری

اسلام آباد( پاکستان خبر)پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملے کے بعد ملکی ایئر اسپیس کی نگرانی کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔ ائیرٹریفک کنٹرولرز کو ایران اور افغانستان کے ریجن سمیت تمام حدود کی کڑی نگرانی کی ہدایت دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستانی ائیرلائنز کو ایرانی فضائی حدود استعمال نہ کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں، تاہم پاکستان کا ایئر اسپیس مکمل طور پر فعال اور محفوظ ہے، اور کراچی سمیت تمام سول ایوی ایشن فلائٹس معمول کے مطابق جاری ہیں۔ایرانی حکام کی نوٹم A0715/26 کے مطابق آج تہران کا ایئر اسپیس 1130 سے 1700 PKT تک سول طیاروں کے لیے بند ہے، جس کے دوران مشرقی-مغربی ٹرانزٹ محدود رہے گا۔ اگر یہ پابندی 1700 PKT کے بعد بھی برقرار رہی تو پاکستانی ایئر اسپیس سے گزرنے والی اوورفلائٹ ٹریفک میں اضافہ متوقع ہے۔پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی نے کہا ہے کہ تمام آپریشنز معمول کے مطابق جاری ہیں اور کسی قسم کی تاخیر یا سیکیورٹی مسئلے کی اطلاع نہیں ملی۔ قومی اور بین الاقوامی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ایوی ایشن سیفٹی اور سیکیورٹی کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھنے کے لیے اقدامات جاری ہیں۔