تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

پاکستان نے جنگ بندی میں اہم سہولت کار کا کردار ادا کیا، پاکستانی سفیر

پاکستان نے جنگ بندی میں اہم سہولت کار کا کردار ادا کیا، پاکستانی سفیر

اسلام آباد( پاکستان خبر)واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ نے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ جنگ بندی کے پیچھے پاکستان کی مسلسل سفارتی کوششوں نے اہم کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں کئی ہفتوں سے جاری تھیں جو بالآخر کامیاب جنگ بندی اور مذاکرات کے آغاز پر منتج ہوئیں۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت سفارت کاری اور مکالمے کی کامیابی ہے اور پاکستان نے ہمیشہ مثبت سفارت کاری کو ترجیح دی ہے۔سفیر نے تمام فریقین کے پاکستان پر اعتماد کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ایک بڑی ذمہ داری تھی جسے خلوص نیت سے نبھایا گیا۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس سفارتی عمل میں سعودی عرب، ترکیہ، مصر، قطر اور چین سمیت دیگر ممالک نے بھی اہم کردار ادا کیا، جن کی مشترکہ کوششوں سے نہ صرف جنگ بندی ممکن ہوئی بلکہ مذاکرات کی راہ بھی ہموار ہوئی۔رضوان سعید شیخ کے مطابق چین نے ابتدا ہی سے تحمل اور سفارت کاری پر زور دیا جبکہ پاکستان کی اعلیٰ قیادت نے اس پورے عمل میں براہ راست کردار ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ کامیاب مذاکرات کے لیے رازداری اور باہمی اعتماد بنیادی حیثیت رکھتے ہیں اور بغیر دباؤ کے فیصلے زیادہ مؤثر ثابت ہوتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ فیصلوں کا اختیار متعلقہ فریقین کے پاس ہے جبکہ پاکستان ایک سہولت کار کے طور پر اپنی ذمہ داریاں ادا کر رہا ہے۔سفیر نے کہا کہ پاکستان کے خلیجی ممالک کے ساتھ دیرینہ اور مضبوط تعلقات ہیں اور وہاں لاکھوں پاکستانی مقیم ہیں، جبکہ اس پورے عمل کے دوران خلیجی قیادت کے ساتھ مسلسل رابطہ رکھا گیا۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کی یہ سفارتی کوششیں مثبت نتائج دیں گی اور خطے میں امن و استحکام نہ صرف خلیج بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی خوشگوار اثرات مرتب کرے گا۔