تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

پاکستان عالمی بانڈ مارکیٹ میں چار سال بعد واپسی

پاکستان عالمی بانڈ مارکیٹ میں چار سال بعد واپسی

 اسلام اآباد( کامرس ڈیسک)پاکستان چار سال کے وقفے کے بعد ایک بار پھر عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کی تیاری کر رہا ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران بلومبرگ کو بتایا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں بانڈ اجرا کے لیے عالمی مشیروں کے تقرر کا عمل شروع کرے گی۔ اس ضمن میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ڈالر بانڈ، یورو بانڈ یا سکوک میں سے کون سا مالیاتی آلہ زیادہ مناسب رہے گا۔وزیر خزانہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان پہلی بار چینی کرنسی میں “پانڈا بانڈ” جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جو عالمی سرمایہ کاروں خصوصاً چینی مارکیٹ تک براہِ راست رسائی کے لیے اہم قدم ہے۔محمد اورنگزیب نے بتایا کہ افراطِ زر جو ایک وقت میں تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب سنگل ڈیجٹ میں ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں موڈیز، ایس اینڈ پی اور فچ نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی ہے، اور زرِ مبادلہ کے ذخائر رواں مالی سال کے اختتام تک درآمدات کے تین ماہ کے برابر ہونے کی توقع ہے۔ حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے تاکہ مستقبل میں ادائیگیوں کے توازن کے بحران پیدا نہ ہوں۔رپورٹس کے مطابق پاکستان 2022 کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے باہر ہو چکا تھا، لیکن آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور سبسڈی میں کمی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی اس واپسی سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا، پانڈا بانڈ کے اجرا سے چین کی سرمایہ مارکیٹ تک براہِ راست رسائی ممکن ہوگی، اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔ماہرین نے مزید کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی طویل مدتی فوائد لائے گی، افراطِ زر میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اصلاحات کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتے ہیں، جو ملک کے مالی استحکام کے لیے اہم سنگ میل ہیں۔