تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

پاکستان عالمی بانڈ مارکیٹ میں چار سال بعد واپسی

پاکستان عالمی بانڈ مارکیٹ میں چار سال بعد واپسی

 اسلام اآباد( کامرس ڈیسک)پاکستان چار سال کے وقفے کے بعد ایک بار پھر عالمی بانڈ مارکیٹ میں واپسی کی تیاری کر رہا ہے۔ وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے ڈیووس میں ورلڈ اکنامک فورم کے دوران بلومبرگ کو بتایا کہ حکومت آئندہ چند ہفتوں میں بانڈ اجرا کے لیے عالمی مشیروں کے تقرر کا عمل شروع کرے گی۔ اس ضمن میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ڈالر بانڈ، یورو بانڈ یا سکوک میں سے کون سا مالیاتی آلہ زیادہ مناسب رہے گا۔وزیر خزانہ نے یہ بھی اعلان کیا کہ پاکستان پہلی بار چینی کرنسی میں “پانڈا بانڈ” جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے، جو عالمی سرمایہ کاروں خصوصاً چینی مارکیٹ تک براہِ راست رسائی کے لیے اہم قدم ہے۔محمد اورنگزیب نے بتایا کہ افراطِ زر جو ایک وقت میں تقریباً 40 فیصد تک پہنچ گئی تھی، اب سنگل ڈیجٹ میں ہے۔ عالمی ریٹنگ ایجنسیوں موڈیز، ایس اینڈ پی اور فچ نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بہتر کی ہے، اور زرِ مبادلہ کے ذخائر رواں مالی سال کے اختتام تک درآمدات کے تین ماہ کے برابر ہونے کی توقع ہے۔ حکومت برآمدات پر مبنی ترقی کی حکمتِ عملی اپنانا چاہتی ہے تاکہ مستقبل میں ادائیگیوں کے توازن کے بحران پیدا نہ ہوں۔رپورٹس کے مطابق پاکستان 2022 کے بعد عالمی بانڈ مارکیٹ سے باہر ہو چکا تھا، لیکن آئی ایم ایف پروگرام کے تحت مالیاتی نظم و ضبط، ٹیکس اصلاحات اور سبسڈی میں کمی نے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔ معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کی اس واپسی سے عالمی سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھے گا، پانڈا بانڈ کے اجرا سے چین کی سرمایہ مارکیٹ تک براہِ راست رسائی ممکن ہوگی، اور سرمایہ کاری میں اضافہ متوقع ہے۔ماہرین نے مزید کہا کہ برآمدات پر مبنی ترقی طویل مدتی فوائد لائے گی، افراطِ زر میں کمی اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ اصلاحات کے مثبت اثرات کی عکاسی کرتے ہیں، جو ملک کے مالی استحکام کے لیے اہم سنگ میل ہیں۔