تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

افغانستان سے مذاکرات کر یں گے، پاکستان کا چین کو انکار

افغانستان سے مذاکرات کر یں گے، پاکستان کا چین کو انکار

اسلام آباد( پاکستان خبر)پاکستان نے چین سے کہا ہے کہ وہ طالبان حکومت کے ساتھ عدم رابطہ کی اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھے گا کیونکہ کابل حکومت کالعدم ٹی ٹی پی اور افغان سرزمین سے کام کرنے والے دیگر دہشت گرد گروپوں کی موجودگی پر اپنا موقف تبدیل کرنے میں ناکام ہے۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی کم کرنے کیلیے پاکستان نے اپنے قریبی اتحادی بیجنگ کی تازہ ترین سفارتی کوششوں کو مسترد کر دیا ہے۔چین نے حال ہی میں دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان بڑھتی کشیدگی کم کرنے کیلیے افغانستان کے لیے اپنے خصوصی ایلچی کو کابل اور اسلام آباد بھیج کر سفارتی کوششیں تیز کی ہیں۔خصوصی ایلچی اس وقت افغانستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کی کوشش میں مصروف ہے۔چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیر خارجہ وانگ ژی نے افغانستان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان متقی سے بھی ٹیلی فون پر بات چیت کی اور صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔چین کو امید ہے کہ دونوں فریق صبرو تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور جلد از جلد براہ راست ملاقات اورجنگ بندی کر کے تنازعات اور اختلافات کو بات چیت کے ذریعے حل کریں گے۔بیجنگ نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمت اور کشیدگی کو کم کرنے کے لیے فعال کوششیں جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔