تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

پاکستانی مچھلی کی روس کو برآمدات کی راہ ہموار، 16 کمپنیوں کو اجازت مل گئی

پاکستانی مچھلی کی روس کو برآمدات کی راہ ہموار، 16 کمپنیوں کو اجازت مل گئی

کراچی ( کامرس ڈیسک) وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چودھری نے ماہی گیری کے شعبے میں اہم پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی بار پاکستانی مچھلی اور سمندری خوراک کی روس کو برآمدات ممکن ہو گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی سولہ کمپنیوں کو روسی منڈی میں مچھلی برآمد کرنے کی اجازت مل گئی ہے، جس سے اس شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔وفاقی وزیر کے مطابق روسی منڈی میں رسائی کے بعد یوریشین اقتصادی اتحاد کے دیگر ممالک تک بھی پاکستانی برآمدات کا دائرہ کار بڑھنے کی توقع ہے، جس سے سمندری خوراک کے شعبے کو مزید فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ میرین فشریز کا متعلقہ ادارہ برآمدات کے لیے بین الاقوامی معیار کو یقینی بناتا ہے، جو عالمی منڈی میں مقابلے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سالانہ سمندری خوراک کی برآمدات پانچ سو ملین ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جبکہ روسی منڈی میں داخلے کے بعد یہ حجم آٹھ سو ملین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔جنید انوار چودھری نے بتایا کہ روس کو برآمدات سے ابتدائی طور پر تین سو ملین ڈالر آمدن متوقع ہے، جو ملکی معیشت کے لیے مثبت پیشرفت ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات کے لیے سمندری، فضائی اور زمینی راستے استعمال کیے جائیں گے، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک تک زمینی راستہ کم لاگت تجارتی راہداری کے طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ان کے مطابق قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان میں پاکستانی مچھلی کی بڑی طلب موجود ہے، جبکہ ملکی بندرگاہیں علاقائی تجارت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں اور گرم پانی کی مچھلیاں عالمی سطح پر مسابقتی برتری حاصل کر سکتی ہیں۔