تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

پاکستانی مچھلی کی روس کو برآمدات کی راہ ہموار، 16 کمپنیوں کو اجازت مل گئی

پاکستانی مچھلی کی روس کو برآمدات کی راہ ہموار، 16 کمپنیوں کو اجازت مل گئی

کراچی ( کامرس ڈیسک) وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چودھری نے ماہی گیری کے شعبے میں اہم پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی بار پاکستانی مچھلی اور سمندری خوراک کی روس کو برآمدات ممکن ہو گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی سولہ کمپنیوں کو روسی منڈی میں مچھلی برآمد کرنے کی اجازت مل گئی ہے، جس سے اس شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔وفاقی وزیر کے مطابق روسی منڈی میں رسائی کے بعد یوریشین اقتصادی اتحاد کے دیگر ممالک تک بھی پاکستانی برآمدات کا دائرہ کار بڑھنے کی توقع ہے، جس سے سمندری خوراک کے شعبے کو مزید فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ میرین فشریز کا متعلقہ ادارہ برآمدات کے لیے بین الاقوامی معیار کو یقینی بناتا ہے، جو عالمی منڈی میں مقابلے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سالانہ سمندری خوراک کی برآمدات پانچ سو ملین ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جبکہ روسی منڈی میں داخلے کے بعد یہ حجم آٹھ سو ملین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔جنید انوار چودھری نے بتایا کہ روس کو برآمدات سے ابتدائی طور پر تین سو ملین ڈالر آمدن متوقع ہے، جو ملکی معیشت کے لیے مثبت پیشرفت ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات کے لیے سمندری، فضائی اور زمینی راستے استعمال کیے جائیں گے، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک تک زمینی راستہ کم لاگت تجارتی راہداری کے طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ان کے مطابق قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان میں پاکستانی مچھلی کی بڑی طلب موجود ہے، جبکہ ملکی بندرگاہیں علاقائی تجارت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں اور گرم پانی کی مچھلیاں عالمی سطح پر مسابقتی برتری حاصل کر سکتی ہیں۔