تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

پاکستانی مچھلی کی روس کو برآمدات کی راہ ہموار، 16 کمپنیوں کو اجازت مل گئی

پاکستانی مچھلی کی روس کو برآمدات کی راہ ہموار، 16 کمپنیوں کو اجازت مل گئی

کراچی ( کامرس ڈیسک) وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چودھری نے ماہی گیری کے شعبے میں اہم پیشرفت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلی بار پاکستانی مچھلی اور سمندری خوراک کی روس کو برآمدات ممکن ہو گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی سولہ کمپنیوں کو روسی منڈی میں مچھلی برآمد کرنے کی اجازت مل گئی ہے، جس سے اس شعبے کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔وفاقی وزیر کے مطابق روسی منڈی میں رسائی کے بعد یوریشین اقتصادی اتحاد کے دیگر ممالک تک بھی پاکستانی برآمدات کا دائرہ کار بڑھنے کی توقع ہے، جس سے سمندری خوراک کے شعبے کو مزید فروغ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ میرین فشریز کا متعلقہ ادارہ برآمدات کے لیے بین الاقوامی معیار کو یقینی بناتا ہے، جو عالمی منڈی میں مقابلے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سالانہ سمندری خوراک کی برآمدات پانچ سو ملین ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان ہے، جبکہ روسی منڈی میں داخلے کے بعد یہ حجم آٹھ سو ملین ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔جنید انوار چودھری نے بتایا کہ روس کو برآمدات سے ابتدائی طور پر تین سو ملین ڈالر آمدن متوقع ہے، جو ملکی معیشت کے لیے مثبت پیشرفت ہوگی۔انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات کے لیے سمندری، فضائی اور زمینی راستے استعمال کیے جائیں گے، جبکہ وسطی ایشیائی ممالک تک زمینی راستہ کم لاگت تجارتی راہداری کے طور پر اہمیت رکھتا ہے۔ان کے مطابق قازقستان، ازبکستان اور ترکمانستان میں پاکستانی مچھلی کی بڑی طلب موجود ہے، جبکہ ملکی بندرگاہیں علاقائی تجارت میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں اور گرم پانی کی مچھلیاں عالمی سطح پر مسابقتی برتری حاصل کر سکتی ہیں۔