تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

پاکستان کا ٹیکس نظام فوری محصولات یا اصلاحات چیلنج بن گیا

پاکستان کا ٹیکس نظام فوری محصولات یا اصلاحات چیلنج بن گیا

کراچی ( کامرس ڈیسک) پاکستان کا ٹیکس نظام ایک بار پھر اہم مرحلے پر کھڑا ہے، جہاں حکومت کو فیصلہ کرنا ہے کہ آیا فوری محصولات کو ترجیح دی جائے یا طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے ٹیکس بنیاد کو وسعت دی جائے۔ماہرین کے مطابق دہائیوں سے ملکی معاشی پالیسی مالی دباؤ، قرض دہندگان کے اثرورسوخ اور محصولات کے اہداف کے گرد گھومتی رہی ہے، جبکہ بنیادی اصلاحات اکثر نظر انداز کی جاتی رہی ہیں۔حالیہ دنوں میں سپرٹیکس سے متعلق عدالتی حکم کے بعد ٹیکس حکام کی جانب سے فوری ریکوری نوٹسز جاری کرنے پر کاروباری حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ پاکستان کا ٹیکس نظام بنیادی طور پر براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکسوں پر مشتمل ہے، جہاں براہِ راست ٹیکس میں انکم ٹیکس شامل ہے اور بالواسطہ ٹیکس میں سیلز ٹیکس، کسٹمز ڈیوٹیز اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی شامل ہیں۔