تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

بنگلہ دیش میں سیاسی ہلچل، بی این پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کو تیار

بنگلہ دیش میں سیاسی ہلچل، بی این پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کو تیار

ڈھاکہ( مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش کے تیرہویں عام انتخابات میں بڑی سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی ہے۔پارٹی قیادت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ 15 فروری کو حکومت قائم کی جائے گی اور اتحادی جماعتوں کو ساتھ ملا کر نئی انتظامیہ تشکیل دی جائے گی۔ جماعت اسلامی کو ایک مضبوط حریف قرار دیا گیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بنگالی چینل جامونا ٹی وی کے حوالے سے بتایا ہے کہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد کو 300 میں سے 212 نشستوں پر برتری حاصل ہو چکی ہے، جبکہ جماعت اسلامی اتحاد 70 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہا ہے۔دوسری جانب نیشنل سٹیزن پارٹی صرف پانچ نشستیں حاصل کر سکی ہے۔ ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور ٹرن آؤٹ تقریباً 60 فیصد رہا۔ملک بھر میں صبح کا آغاز اسی خبر کے ساتھ ہوا کہ بی این پی واضح برتری کے ساتھ اگلی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ چکی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ پارٹی کے رہنما طارق رحمان وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار بن سکتے ہیں۔