تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

بنگلہ دیش میں سیاسی ہلچل، بی این پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کو تیار

بنگلہ دیش میں سیاسی ہلچل، بی این پی دو تہائی اکثریت کے ساتھ حکومت بنانے کو تیار

ڈھاکہ( مانیٹرنگ ڈیسک) بنگلہ دیش کے تیرہویں عام انتخابات میں بڑی سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی نے دو تہائی اکثریت حاصل کرنے کے بعد حکومت بنانے کا اعلان کر دیا ہے، جبکہ جماعت اسلامی دوسرے نمبر پر رہی ہے۔پارٹی قیادت کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ 15 فروری کو حکومت قائم کی جائے گی اور اتحادی جماعتوں کو ساتھ ملا کر نئی انتظامیہ تشکیل دی جائے گی۔ جماعت اسلامی کو ایک مضبوط حریف قرار دیا گیا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز نے بنگالی چینل جامونا ٹی وی کے حوالے سے بتایا ہے کہ غیر سرکاری نتائج کے مطابق بی این پی اتحاد کو 300 میں سے 212 نشستوں پر برتری حاصل ہو چکی ہے، جبکہ جماعت اسلامی اتحاد 70 نشستیں جیتنے میں کامیاب رہا ہے۔دوسری جانب نیشنل سٹیزن پارٹی صرف پانچ نشستیں حاصل کر سکی ہے۔ ووٹوں کی گنتی کا عمل جاری ہے اور ٹرن آؤٹ تقریباً 60 فیصد رہا۔ملک بھر میں صبح کا آغاز اسی خبر کے ساتھ ہوا کہ بی این پی واضح برتری کے ساتھ اگلی حکومت بنانے کی پوزیشن میں آ چکی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بحث بھی زور پکڑ رہی ہے کہ پارٹی کے رہنما طارق رحمان وزارت عظمیٰ کے مضبوط امیدوار بن سکتے ہیں۔