تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

صرف قبضہ یا عرصہ طویل زمین رکھنے سے ملکیت نہیں بنتی:سپریم کورٹ

صرف قبضہ یا عرصہ طویل زمین رکھنے سے ملکیت نہیں بنتی:سپریم کورٹ

اسلام آباد( پاکستان خبر) سپریم کورٹ آف پاکستان نے 1992 کے مبینہ زبانی معاہدے پر زمین کی منتقلی کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صرف قبضہ یا طویل عرصہ زمین رکھنے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی۔جسٹس شاہد بلال حسن کے جاری کردہ فیصلے میں عدالت نے واضح کیا کہ زبانی معاہدوں کے مقدمات میں سخت معیارِ ثبوت لاگو ہوگا اور درخواست گزار غلام علی کی درخواست منظور کی گئی۔ اس فیصلے کے نتیجے میں لاہور ہائیکورٹ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور ٹرائل کورٹ کے فیصلے کالعدم قرار دیے گئے۔سپریم کورٹ نے تحریری مؤقف دیا کہ 1992 کے مبینہ زبانی معاہدے کو قانون کے مطابق ثابت نہیں کیا جا سکا۔ زبانی معاہدہ ثابت کرنے کے لیے تاریخ، وقت، مقام، شرائط اور گواہوں کی تفصیل لازمی ہے اور عدالتی تحریری مؤقف سے ہٹ کر دی گئی شہادت قابل قبول نہیں۔فیصلے میں کہا گیا کہ مدعیان کے مطابق 1992 میں ان کے والد کے قتل کے مقدمے میں ملزم کی بریت کے بعد صلح ہوئی اور جرگے میں فیصلہ ہوا کہ غلام علی 32 کنال زمین مدعیان کو دے گا۔ مدعیان کا دعویٰ تھا کہ صلح کے بعد زمین کا قبضہ بھی انہیں دے دیا گیا، تاہم 2016 میں غلام علی نے انتقال رجسٹرڈ کرانے سے انکار کر دیا۔ٹرائل کورٹ نے ابتدائی طور پر مدعیان کا دعویٰ خارج کیا تھا، جبکہ اپیل میں مخصوص کارکردگی کا دعویٰ منظور ہوا۔ بعد ازاں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج اور لاہور ہائیکورٹ نے بھی نچلی عدالت کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔