تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

بجلی سبسڈی کی منظوری مگر قیمت بڑھانے کی نئی شرط عائد

بجلی سبسڈی کی منظوری مگر قیمت بڑھانے کی نئی شرط عائد

اسلام آباد( کامرس ڈیسک)عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کو آئندہ مالی سال دو ہزار چھبیس ستائیس کے بجٹ میں بجلی کے شعبے کے لیے آٹھ سو تیس ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دے دی ہے، تاہم اس کے ساتھ جنوری دو ہزار ستائیس میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی شرط بھی عائد کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اس سبسڈی میں سے تقریباً تین سو ارب روپے بجلی چوری اور بلوں کی کم وصولی سے ہونے والے نقصانات پورے کرنے کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ آئندہ سال سالانہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا، جس میں عالمی توانائی منڈی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات بھی شامل ہوں گے۔حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بجلی کے نرخوں میں بروقت ردوبدل کے ذریعے لاگت کی مکمل وصولی یقینی بنائی جائے گی، جبکہ مختلف صارفین پر اس کا بوجھ متوازن انداز میں تقسیم کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ منظور شدہ سبسڈی حکومت کی طلب سے سولہ فیصد کم ہے، جس میں ٹیرف فرق، سابق قبائلی علاقوں کے واجبات، زرعی ٹیوب ویلز اور گردشی قرضے کی ادائیگیاں شامل ہیں۔حکام کے مطابق بجلی کے شعبے میں اصلاحات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے، تاہم ماضی میں قیمتوں میں اضافے کے باوجود گردشی قرضے میں کمی نہ آنا چیلنج کے طور پر موجود ہے۔دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ نے پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی دینے کی اجازت نہیں دی، حالانکہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ جاری ہے، جسے ماہرین ایک تضاد قرار دے رہے ہیں۔