تازہ ترین
نئے صوبوں کی بحث ڈرامہ ہے، ملیحہ لودھی پی ٹی آئی آزاد عدلیہ، الیکشن کمیشن کیلئے مارچ کررہی ہے: بیرسٹر گوہر کرم میں آپریشن، افغان خارجی سمیت 4 دہشتگرد ہلاک قائداعظم کی میراث، پاکستان کو فلاحی ریاست بنانا ہے: شہباز شریف 11 9/ کی 25ویں برسی، نیو یارک میں خصوصی ڈرون لائٹ شو کا اہتمام برطانیہ میں پروازوں کا بحران، 12 ہزار سے زائد متاثر ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کی حوثیوں پر کارروائی کی درخواست رد کردی منگولیا کے صدر نے 100 کلو وزن 20 بار اٹھا لیا پاکستان میں ڈیجیٹل اثاثوں کی لائسنسنگ کا عمل شروع پاکستان، آئی ایم ایف مذاکرات 23 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان 4 روز میں پیٹرول تقریباً 25 روپے فی لیٹر مہنگا ہوا: رپورٹ پیٹرول 3 روپے 5 پیسے، ڈیزل 5 روپے 37 پیسے مہنگا تاپسی پنوں نے پاپارازی سے رویے کی وجہ بتادی غزہ پر فلم ’نازا‘ کو وینس فیسٹیول میں 25 منٹ داد سیف علی خان نے فلم ’کاک ٹیل‘ میں کام کو غلطی قرار دے دیا رتیش دیش مکھ کو پاپارازی نے 100 روپے دے کر بچالیا
پاکستان خبر

بجلی سبسڈی کی منظوری مگر قیمت بڑھانے کی نئی شرط عائد

بجلی سبسڈی کی منظوری مگر قیمت بڑھانے کی نئی شرط عائد

اسلام آباد( کامرس ڈیسک)عالمی مالیاتی فنڈ نے پاکستان کو آئندہ مالی سال دو ہزار چھبیس ستائیس کے بجٹ میں بجلی کے شعبے کے لیے آٹھ سو تیس ارب روپے کی سبسڈی دینے کی اجازت دے دی ہے، تاہم اس کے ساتھ جنوری دو ہزار ستائیس میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کی شرط بھی عائد کر دی گئی ہے۔ذرائع کے مطابق اس سبسڈی میں سے تقریباً تین سو ارب روپے بجلی چوری اور بلوں کی کم وصولی سے ہونے والے نقصانات پورے کرنے کے لیے مختص کیے جائیں گے۔ ادارے نے واضح کیا ہے کہ آئندہ سال سالانہ ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کے نرخوں میں اضافہ کیا جائے گا، جس میں عالمی توانائی منڈی اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے اثرات بھی شامل ہوں گے۔حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بجلی کے نرخوں میں بروقت ردوبدل کے ذریعے لاگت کی مکمل وصولی یقینی بنائی جائے گی، جبکہ مختلف صارفین پر اس کا بوجھ متوازن انداز میں تقسیم کیا جائے گا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ منظور شدہ سبسڈی حکومت کی طلب سے سولہ فیصد کم ہے، جس میں ٹیرف فرق، سابق قبائلی علاقوں کے واجبات، زرعی ٹیوب ویلز اور گردشی قرضے کی ادائیگیاں شامل ہیں۔حکام کے مطابق بجلی کے شعبے میں اصلاحات جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے، تاہم ماضی میں قیمتوں میں اضافے کے باوجود گردشی قرضے میں کمی نہ آنا چیلنج کے طور پر موجود ہے۔دوسری جانب عالمی مالیاتی فنڈ نے پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی دینے کی اجازت نہیں دی، حالانکہ عالمی سطح پر قیمتوں میں اضافہ جاری ہے، جسے ماہرین ایک تضاد قرار دے رہے ہیں۔