تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت نقصان پہنچا کر ایک نئی مثال قائم کی:امریکی وزیر دفاع

صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت نقصان پہنچا کر ایک نئی مثال قائم کی:امریکی وزیر دفاع

واشنگٹن ( مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے پریس کانفرنس کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت کو سراہتے ہوئے ایران کے خلاف کارروائی کو بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کو سخت نقصان پہنچا کر ایک نئی مثال قائم کی اور ایسی کامیابی حاصل کی جو اس سے پہلے ممکن نہیں ہو سکی تھی۔پیٹ ہیگستھ کے مطابق ایران کی فضائیہ اور بحریہ کو شدید نقصان پہنچایا گیا جبکہ اس کی جوہری صلاحیت کو بھی متاثر کیا گیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران جنگ بندی پر آمادہ ہونے کے لیے خود پیش ہوا۔وزیر دفاع نے کہا کہ ایران میں اب ایسے عناصر سامنے آ رہے ہیں جو مذاکرات کے حامی ہیں اور امریکا کی بنیادی شرط یہی ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔انہوں نے جنگ بندی کو ایک مثبت موقع قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ حقیقی امن اور ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار کر سکتی ہے۔پیٹ ہیگستھ کا کہنا تھا کہ امریکی وزارت دفاع اپنا کردار ادا کر چکی ہے تاہم صورتحال پر مکمل نظر رکھی جا رہی ہے اور کسی بھی تبدیلی کی صورت میں فوری ردعمل کی صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ جنگ وقتی طور پر دو ہفتوں کے لیے معطل کی گئی ہے لیکن امریکی افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔بعد ازاں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے بھی پینٹاگون میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور عسکری معاملات پر بریفنگ دی۔