تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے کی تجویز مسترد، حکومت نے اربوں کا بوجھ خود اٹھالیا

پیٹرول اور ڈیزل مہنگا کرنے کی تجویز مسترد، حکومت نے اربوں کا بوجھ خود اٹھالیا

اسلام آباد( پاکستان خبر)وزیراعظم شہباز شریف نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجوزہ بڑے اضافے کو ایک بار پھر مسترد کرتے ہوئے قیمتیں موجودہ سطح پر برقرار رکھنے کا اعلان کردیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے واضح کیا کہ حکومت نے عوام کو مزید معاشی دباؤ سے بچانے کیلئے اہم فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ آئندہ ہفتے کیلئے پیٹرول کی قیمت میں فی لیٹر 95 روپے جبکہ ڈیزل میں 203 روپے اضافے کی سفارش کی گئی تھی، تاہم عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے ان تجاویز کو رد کردیا گیا اور اس کا مالی بوجھ حکومت خود برداشت کرے گی۔وزیراعظم کے مطابق اس فیصلے سے قومی خزانے پر 56 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا، جسے حکومت عوامی ریلیف کیلئے خود اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عالمی منڈی کے مطابق پیٹرول کی قیمت 544 روپے فی لیٹر اور ڈیزل 790 روپے فی لیٹر تک پہنچ سکتی تھی، مگر حکومت عوام کو رعایت دیتے ہوئے پیٹرول 322 روپے اور ڈیزل 335 روپے فی لیٹر فراہم کررہی ہے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ گزشتہ تین ہفتوں میں حکومت 125 ارب روپے کا بوجھ برداشت کرچکی ہے تاکہ عوام کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھا جاسکے۔ ان کے مطابق یہ خطیر رقم دیگر ترقیاتی کاموں پر خرچ ہوسکتی تھی، مگر عوام کا معاشی تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے قوم سے اپیل کی کہ مشکل حالات میں سادگی اور کفایت شعاری کو اپنایا جائے، حکومت اس حوالے سے ایک جامع منصوبہ تیار کررہی ہے جس پر عملدرآمد کیلئے عوام کا تعاون ضروری ہوگا۔وزیراعظم نے یہ بھی کہا کہ پاکستان خطے میں امن کے قیام کیلئے فعال کردار ادا کررہا ہے اور مختلف محاذوں پر سفارتی کوششیں جاری ہیں۔ ان کے مطابق دنیا اس وقت شدید معاشی اور سیاسی چیلنجز سے دوچار ہے اور بڑی معیشتیں بھی دباؤ کا شکار ہیں، تاہم پاکستان ان حالات میں بہتری کیلئے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔