تازہ ترین
ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان کا مذاکرات کا مطا لبہ الیکشن قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ، الیکشن کمیشن نے لیگل ریفارمز کمیٹی فعال کر دی وفاقی آئینی عدالت کے اہم فیصلے، حارث اسٹیل ملز ریفرنس پر نیب کو نوٹس صدر زرداری نے تین اہم سمریوں کی منظوری دے دی امریکا کا ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ، بندر عباس سمیت اہم عسکری تنصیبات نشانے پر ایران کا کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ میانمار کے قریب دو کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی ہلاکت کا خدشہ برطانیہ میں 14 سالہ لڑکے پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج پاکستان، ترکیہ بزنس کانفرنس میں سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان کی سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کے رعایتی آئل فنانسنگ پیکیج کی درخواست سیاسی بینر لہرانے پر ارجنٹائن کو فیفا کارروائی کا سامنا متو قع واشنگٹن فریڈم نے ٹی ٹوئنٹی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف حاصل کر لیا ماڈل ہما سلیم کا نامعلوم کرکٹر پر ہراسانی کا الزام، قانونی کارروائی کا اعلان مفتی عبدالقوی کا خود کو ’ٹھرکی‘ قرار دینے کا بیان وائرل یوٹیوب نے کم معیار کے مواد پر مونیٹائزیشن سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا شدید شمسی طوفان ٹیکنالوجی اور مواصلاتی نظام کے لیے بڑا خطرہ قرار
پاکستان خبر

پنجاب کا 5903 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش، تنخواہوں و ترقیاتی منصوبوں میں اہم فیصلے

پنجاب کا 5903 ارب روپے کا ٹیکس فری بجٹ پیش، تنخواہوں و ترقیاتی منصوبوں میں اہم فیصلے

لاہور( کامرس ڈیسک) لاہور میں پنجاب حکومت نے مالی سال 2026-27 کا 5903 ارب روپے حجم کا ٹیکس فری بجٹ پیش کر دیا ہے، جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اور پنشن میں 3.5 فیصد اضافے کی تجویز شامل ہے۔پنجاب کے وزیر خزانہ میاں مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت صوبے کو سرمایہ کاری کا مرکز بنانے کے ہدف پر کام کر رہی ہے۔بجٹ کے مطابق تعلیم کے لیے 750 ارب روپے اور صحت کے لیے 500 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ مقامی حکومتوں کے لیے 803 ارب 88 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ترقیاتی بجٹ کو 1450 ارب روپے سے کم کر کے 752 ارب روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ لیپ ٹاپ پروگرام کے لیے 27 ارب، ہونہار اسکالر شپ کے لیے 15 ارب اور انفارمیشن اینڈ کلچر کے لیے 6 ارب 70 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔کسان کارڈ پروگرام کے لیے 10 ارب روپے اور مفت ادویات کے لیے 82.80 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ رمضان پیکیج کے لیے 37 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔بجٹ اجلاس کے دوران وزیراعلیٰ مریم نواز شریف بھی ایوان میں موجود تھیں۔ اجلاس کا آغاز تلاوتِ قرآن، نعت اور قومی ترانے سے ہوا۔وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں ایران اور امریکا کے درمیان امن معاہدے پر بھی مبارکباد پیش کی اور ملکی قیادت کو اس پیش رفت پر سراہا۔