تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

لارڈز کی پچ پر سوالات، ایم سی سی نے معیار پر مایوسی کا اظہار کر دیا

لارڈز کی پچ پر سوالات، ایم سی سی نے معیار پر مایوسی کا اظہار کر دیا

لارڈز ( سپورٹس ڈیسک)میرلبون کرکٹ کلب (ایم سی سی) نے لارڈز کرکٹ گراؤنڈ کی پچ کی کارکردگی پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اسے توقعات کے مطابق قرار نہیں دیا۔ایم سی سی کے چیف ایگزیکٹو راب لاسن کے مطابق کلب نے تسلیم کیا ہے کہ حالیہ ٹیسٹ میچ کی پچ پر گیند کا اچھال غیر متوازن اور غیر مستقل تھا، جو اس سطح کے گراؤنڈ سے وابستہ معیار کے مطابق نہیں تھا۔ان کا کہنا تھا کہ کلب ہمیشہ اعلیٰ معیار برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے، اس لیے جب وکٹ ان معیارات پر پوری نہ اترے تو مایوسی فطری امر ہے۔واضح رہے کہ لارڈز میں انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ میں صرف ایک سو چھیاسٹھ اوورز میں چالیس وکٹیں گر گئیں، جس میں انگلینڈ نے نیوزی لینڈ کو ایک سو پندرہ رنز سے شکست دی۔ بارش کے باعث میچ چوتھے دن تک محدود رہا۔میچ کے دوران پچ پر گیند کا اچھال غیر متوقع رہا، جس کے باعث بلے بازوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان میں سے چوبیس وکٹیں بولڈ یا ایل بی ڈبلیو کی صورت میں گریں۔اس سے قبل انگلینڈ کے کپتان بین اسٹوکس نے بھی غیر معمولی کنڈیشنز پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسی پچیں ٹیسٹ کرکٹ کے معیار اور مستقبل کے لیے درست نہیں ہیں۔