کوئٹہ (پاکستان خبر) لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب پھینکے جانے کے واقعے کے خلاف ینگ ڈاکٹرز نے احتجاج کرتے ہوئے آج سے صوبے کے سرکاری اسپتالوں میں ایمرجنسی کے علاوہ تمام طبی خدمات بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ینگ ڈاکٹرز نے پریس کانفرنس میں اس واقعے کو سنگین سیکیورٹی ناکامی قرار دیتے ہوئے غیر جانبدارانہ اور شفاف تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔دوسری جانب بلوچستان کے معاون وزیر داخلہ بابر یوسف زئی نے کہا ہے کہ ڈاکٹرز کو احتجاج کے بجائے محکمہ صحت کے ساتھ مذاکرات کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق وارڈز اور او پی ڈی بند ہونے سے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا، جبکہ حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ملزم کس سے رابطے میں تھا۔واضح رہے کہ کوئٹہ کے سنڈیمن اسپتال میں تیزاب گردی کا شکار ہونے والی خاتون ڈاکٹر کو بہتر علاج کے لیے کراچی کے نجی اسپتال منتقل کیا گیا ہے، جہاں انہیں گردن، سر اور چہرے پر زخموں کے باعث ابتدائی طور پر انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا ہے۔ادھر حکام کے مطابق مبینہ ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک ہو چکا ہے، جبکہ وزیر صحت بلوچستان کا کہنا ہے کہ ملزم طویل عرصے سے متاثرہ ڈاکٹر کو ہراساں کر رہا تھا اور اس کے موبائل فون سے ہراسانی کے شواہد بھی ملے ہیں۔
کوئٹہ: لیڈی ڈاکٹر پر تیزاب حملہ، ینگ ڈاکٹرز کا احتجاج، سروسز بند کرنے کا اعلان
واپس خبروں پر
Category:
پاکستان