تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

ایران یا لبنان پر حملہ ہوا تو ترکیہ بھی میدان میں آئے گا، اردوان کی دھمکی

ایران یا لبنان پر حملہ ہوا تو ترکیہ بھی میدان میں آئے گا، اردوان کی دھمکی

انقرہ ( مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر طیب اردوان نے خبردار کیا ہے کہ لبنان یا ایران پر کسی بھی حملے کو ترکیہ پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے خطے کی کشیدہ صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق طیب اردوان نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی فضا انتہائی تشویشناک ہے اور اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔انہوں نے اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اشتعال انگیزی سے باز رہے اور امن عمل میں رکاوٹیں پیدا نہ کرے، بصورت دیگر سخت ردعمل دیا جائے گا۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ علاقائی امن کو نقصان پہنچانے کی قیمت اسرائیل کو چکانا پڑے گی، اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کارروائی ناگزیر ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ اپنے مفادات اور خطے کے استحکام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور ماضی کی طرح ضروری فیصلوں سے گریز نہیں کرے گا۔طیب اردوان نے یہ بھی کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود جنگ بندی کے دوران بھی عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو قابل مذمت ہے۔