تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

ایران یا لبنان پر حملہ ہوا تو ترکیہ بھی میدان میں آئے گا، اردوان کی دھمکی

ایران یا لبنان پر حملہ ہوا تو ترکیہ بھی میدان میں آئے گا، اردوان کی دھمکی

انقرہ ( مانیٹرنگ ڈیسک) ترک صدر طیب اردوان نے خبردار کیا ہے کہ لبنان یا ایران پر کسی بھی حملے کو ترکیہ پر حملہ تصور کیا جائے گا، جس سے خطے کی کشیدہ صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق طیب اردوان نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی جنگی فضا انتہائی تشویشناک ہے اور اس کے نتائج خطرناک ہو سکتے ہیں۔انہوں نے اسرائیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اشتعال انگیزی سے باز رہے اور امن عمل میں رکاوٹیں پیدا نہ کرے، بصورت دیگر سخت ردعمل دیا جائے گا۔ترک صدر کا کہنا تھا کہ علاقائی امن کو نقصان پہنچانے کی قیمت اسرائیل کو چکانا پڑے گی، اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو کارروائی ناگزیر ہو سکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ اپنے مفادات اور خطے کے استحکام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا اور ماضی کی طرح ضروری فیصلوں سے گریز نہیں کرے گا۔طیب اردوان نے یہ بھی کہا کہ خطے میں جاری کشیدگی کے باوجود جنگ بندی کے دوران بھی عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جو قابل مذمت ہے۔