تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

پاکستان کے کردار کا احترام کیا جائے، ششی تھرور کا بھارت کو اہم مشورہ

پاکستان کے کردار کا احترام کیا جائے، ششی تھرور کا بھارت کو اہم مشورہ

نئی دہلی ( مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی سیاستدان و مصنف ششی تھرور نے کہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے جاری بحران میں پاکستان کا ایک اہم ثالث کے طور پر ابھرنا بھارت کے لیے سنجیدہ اور مثبت ردعمل کا تقاضا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ بھارت کو ایران جنگ کے تناظر میں امن کی کوششوں کی حمایت کرنی چاہیے، خواہ مذاکرات میں سہولت کاری کوئی بھی کرے۔ ان کےمطابق پاکستان کی عسکری قیادت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان تعلق ایک عملی حقیقت ہے جو روایتی بیوروکریسی سے ہٹ کر کام کر رہا ہے۔ششی تھرور نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر پاکستان اس عمل میں کامیاب ہوتا ہے تو بھارت کو سب سے پہلے اس کامیابی کا خیر مقدم کرنا چاہیے کیونکہ ایٹمی صلاحیت کے حامل خطے میں استحکام سب کے مفاد میں ہے۔انہوں نے بھارتی پالیسی سازوں کو خبردار کیا کہ وہ اس پیش رفت پر سٹریٹجک بے چینی یا تنقید سے گریز کریں کیونکہ کسی بھی ناکام ثالثی کے اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت بھی امن کا خواہاں ہے اور بدلتی عالمی صورتحال میں اسے محض تماشائی بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا اور اس کا احترام کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق پاکستان اور ایران کے درمیان طویل سرحد موجود ہے، اس لیے کسی بھی علاقائی کشیدگی کے اثرات پاکستان پر بھی پڑ سکتے ہیں، جس کے باعث اس کا امن کوششوں میں کردار فطری ہے۔ششی تھرور نے اس بات پر بھی زور دیا کہ طاقت کے اصول پر مبنی نظام کسی کے مفاد میں نہیں ہوتا کیونکہ اس سے تمام ممالک بڑی طاقتوں کے رحم و کرم پر آ سکتے ہیں۔