تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

ایس ای سی پی کی 36 سرکاری کمپنیوں کے خلاف کارروائی، جرمانے عائد

ایس ای سی پی کی 36 سرکاری کمپنیوں کے خلاف کارروائی، جرمانے عائد

 اسلام آباد( کامرس ڈیسک)اسلام آباد میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ریٹرنز اور مالیاتی گوشوارے جمع نہ کرانے پر 36 سرکاری ملکیتی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ایس ای سی پی کے مطابق سرکاری اداروں میں احتساب اور بہتر کارپوریٹ گورننس کے فروغ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ حکومت کی اصلاحاتی پالیسی کے تحت سرکاری کمپنیوں میں قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ مالیاتی گوشوارے اور سالانہ ریٹرنز جمع نہ کرانے پر مجموعی طور پر 36 سرکاری کمپنیوں کو 58 شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے تھے، جن پر کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ ان میں 46 کیسز میں جرمانے جبکہ 12 میں تنبیہی احکامات جاری کیے گئے۔ایس ای سی پی کے مطابق مجموعی طور پر 31 لاکھ 75 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ مارچ 2026 میں 41 سرکاری کمپنیوں کو 66 شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے تھے، جن میں سے 58 پر کارروائی مکمل جبکہ 8 کیسز میں کارروائی جاری ہے۔بیان کے مطابق سالانہ ریٹرنز جمع نہ کرانے پر کم از کم 25 ہزار روپے جبکہ ریٹرنز اور مالیاتی گوشوارے جمع نہ ہونے پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ مسلسل عدم تعمیل کی صورت میں یہ جرمانہ 2 لاکھ 25 ہزار روپے تک جا سکتا ہے۔ایس ای سی پی نے بتایا کہ کارروائی کے دوران تمام کمپنیوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، جبکہ متعدد اداروں نے نوٹسز کے بعد اپنے زیر التوا ریٹرنز جمع کرا دیے ہیں۔مزید بتایا گیا ہے کہ ریٹرن فائلنگ میں سہولت کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے۔ فیصلوں کی نقول متعلقہ اداروں اور مانیٹرنگ یونٹس کو بھجوا دی گئی ہیں، جبکہ کارپوریٹ گورننس قوانین پر عملدرآمد کے لیے اقدامات جاری ہیں۔