اسلام آباد( کامرس ڈیسک)اسلام آباد میں سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان نے ریٹرنز اور مالیاتی گوشوارے جمع نہ کرانے پر 36 سرکاری ملکیتی کمپنیوں کے خلاف کارروائی کی ہے۔ایس ای سی پی کے مطابق سرکاری اداروں میں احتساب اور بہتر کارپوریٹ گورننس کے فروغ کے لیے اقدامات جاری ہیں۔ حکومت کی اصلاحاتی پالیسی کے تحت سرکاری کمپنیوں میں قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔بیان میں بتایا گیا ہے کہ مالیاتی گوشوارے اور سالانہ ریٹرنز جمع نہ کرانے پر مجموعی طور پر 36 سرکاری کمپنیوں کو 58 شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے تھے، جن پر کارروائی مکمل کر لی گئی ہے۔ ان میں 46 کیسز میں جرمانے جبکہ 12 میں تنبیہی احکامات جاری کیے گئے۔ایس ای سی پی کے مطابق مجموعی طور پر 31 لاکھ 75 ہزار روپے کے جرمانے عائد کیے گئے ہیں۔ مارچ 2026 میں 41 سرکاری کمپنیوں کو 66 شوکاز نوٹسز جاری کیے گئے تھے، جن میں سے 58 پر کارروائی مکمل جبکہ 8 کیسز میں کارروائی جاری ہے۔بیان کے مطابق سالانہ ریٹرنز جمع نہ کرانے پر کم از کم 25 ہزار روپے جبکہ ریٹرنز اور مالیاتی گوشوارے جمع نہ ہونے پر 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ مسلسل عدم تعمیل کی صورت میں یہ جرمانہ 2 لاکھ 25 ہزار روپے تک جا سکتا ہے۔ایس ای سی پی نے بتایا کہ کارروائی کے دوران تمام کمپنیوں کو اپنا مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا گیا، جبکہ متعدد اداروں نے نوٹسز کے بعد اپنے زیر التوا ریٹرنز جمع کرا دیے ہیں۔مزید بتایا گیا ہے کہ ریٹرن فائلنگ میں سہولت کے لیے خصوصی ڈیسک قائم کیا گیا ہے۔ فیصلوں کی نقول متعلقہ اداروں اور مانیٹرنگ یونٹس کو بھجوا دی گئی ہیں، جبکہ کارپوریٹ گورننس قوانین پر عملدرآمد کے لیے اقدامات جاری ہیں۔