تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، ہنڈریڈ انڈیکس 1 لاکھ 45 ہزار پوائنٹس تک گرگیا

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، ہنڈریڈ انڈیکس 1 لاکھ 45 ہزار پوائنٹس تک گرگیا

کراچی( کامرس ڈیسک) پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار کے آغاز پر شدید مندی ریکارڈ کی گئی، جس میں ہنڈریڈ انڈیکس 9453 پوائنٹس کی کمی سے 1 لاکھ 48 ہزار 42 کی سطح پر آگیا۔تفصیلات کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں بدترین مندی کے باعث کاروبار عارضی طور پر معطل کر دیا گیا۔ انڈیکس ٹریڈنگ 9780 پوائنٹس کم ہو کر 1 لاکھ 47 ہزار 715 کی حد پر رک گئی جبکہ کے ایس ای 30 انڈیکس 3133 پوائنٹس کم ہو کر 45 ہزار 196 پر معطل ہوا۔کے ایس ای 30 انڈیکس ٹریڈنگ منفی 6.93 فیصد پر معطل رہی۔ ایک گھنٹے کے وقفے کے بعد کاروبار دوبارہ شروع ہوا، تاہم ہنڈریڈ انڈیکس مسلسل کمی کے بعد 1 لاکھ 45 ہزار 152 پوائنٹس تک گر گیا، جس میں 7.84 فیصد کمی دیکھی گئی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے تیل کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ اسٹاک مارکیٹ کی مندی کی بڑی وجہ ہے۔ خطے کی کشیدہ صورتحال اور نئی مانیٹری پالیسی میں ممکنہ شرح سود میں اضافے کے خدشات بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد پر اثرانداز ہو رہے ہیں اور وہ سرمائے کے انخلا کو ترجیح دے رہے ہیں۔