اسلام آباد( کامرس ڈیسک)وفاقی بجٹ کی پیشی سے قبل ہی ملک میں سولر پینلز کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس نے صارفین اور سولر توانائی میں سرمایہ کاری کرنے کے خواہشمند افراد کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔مارکیٹ ذرائع کے مطابق مختلف صلاحیت کے سولر پینلز کی فی پلیٹ قیمت میں سات ہزار سے نو ہزار روپے تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے باعث مجموعی نرخوں میں واضح اضافہ ہوا ہے۔رپورٹس کے مطابق پانچ سو پچاسی واٹ کا سولر پینل، جو پہلے تقریباً اٹھارہ ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب بڑھ کر ستائیس ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح چھ سو پینتالیس واٹ کے پینل کی قیمت بائیس ہزار روپے سے بڑھ کر اکتیس ہزار دو سو روپے ہو گئی ہے، جبکہ سات سو بیس واٹ کا پینل پچیس ہزار روپے سے بڑھ کر تینتیس ہزار پانچ سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔مارکیٹ سے وابستہ حلقوں کے مطابق صرف سولر پینلز ہی نہیں بلکہ انورٹرز کی قیمتوں میں بھی اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے سولر انرجی سسٹم کی مجموعی لاگت مزید بڑھ سکتی ہے۔