کراچی( کامرس ڈیسک)سندھ ہائیکورٹ نے کراچی ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو اور کسٹمز کے چھاپے کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے ضبط کیا گیا سامان واپس کرنے کا حکم دے دیا ہے۔درخواست گزار کے وکیل کے مطابق متعلقہ کمپنی ایکسپورٹ پراسیسنگ زون اتھارٹی کی اجازت سے تمباکو اور سگریٹ کی تیاری کا کام کر رہی تھی۔ تاہم ایف بی آر نے سیلز ٹیکس فراڈ کے الزام میں چھاپہ مارا جبکہ کسٹمز نے درآمدی قوانین کے باوجود سگریٹ اور دیگر سامان ضبط کر لیا۔سرکاری وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ایف بی آر کے مطابق کمپنی کے مالی گوشوارے مشکوک پائے گئے تھے اور غیر قانونی تمباکو مصنوعات کی تیاری کے ذریعے ٹیکس چوری کی اطلاع پر کارروائی کی گئی۔سماعت کے دوران جسٹس سلیم جیسَر نے ریمارکس دیے کہ سیلز ٹیکس قانون کے تحت ٹیکس فراڈ کی تحقیقات سے قبل کمشنر کی منظوری اور متعلقہ فریق کو مؤقف پیش کرنے کا موقع دینا ضروری ہے۔ عدالت کے مطابق ریکارڈ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ درخواست گزار کے خلاف باقاعدہ انکوائری کی منظوری حاصل کی گئی تھی۔عدالت نے کہا کہ سرچ وارنٹ حاصل کرتے وقت بھی یہ ثابت نہیں کیا جا سکا کہ درخواست گزار کے خلاف کوئی زیر التوا قانونی کارروائی موجود تھی، جبکہ مجسٹریٹ کی جانب سے دی گئی اجازت بھی قانون کے مطابق نہیں تھی۔عدالت کے مطابق چھاپے کے دوران کوئی غیر قانونی سرگرمی ثابت نہ ہونے پر کسٹمز کو طلب کر کے سامان ضبط کیا گیا، جبکہ کسٹمز قانون کے تحت صرف معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔سندھ ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ پیش کردہ دستاویزات سے بظاہر ثابت ہوتا ہے کہ سامان قانونی طور پر درآمد کیا گیا تھا اور ریکارڈ پر اس کے اسمگل شدہ ہونے کا کوئی ثبوت موجود نہیں۔عدالت نے کہا کہ سرکاری ادارے آئین کے تحت شہریوں کو حاصل حقوق کے منافی اختیارات استعمال نہیں کر سکتے۔ مزید کہا گیا کہ چھاپہ، سرچ وارنٹ اور ضبطگی کی کارروائیاں قانون کے مطابق نہیں تھیں، اس لیے انہیں کالعدم قرار دیا جاتا ہے۔عدالت نے حکم دیا کہ ضبط کیا گیا سامان فوری طور پر درخواست گزار کمپنی کے حوالے کیا جائے۔
سندھ ہائیکورٹ: کراچی ایکسپورٹ پراسیسنگ زون میں چھاپہ غیر قانونی، ضبط شدہ سامان واپس کرنے کا حکم
واپس خبروں پر
Category:
کامرس