تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

سونگ کران تہوار خونی ثابت، 3 دن میں 191 ہلاکتیں، سینکڑوں حادثات

سونگ کران تہوار خونی ثابت، 3 دن میں 191 ہلاکتیں، سینکڑوں حادثات

تھائی لینڈ( مانیٹرنگ ڈیسک)تھائی لینڈ کے روایتی نئے سال کے تہوار سونگ کران کے دوران خوشیاں غم میں بدل گئیں، جہاں سات روزہ تقریبات کے ابتدائی تین دنوں میں ایک سو اکیانوے افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ نو سو اکاون سے زائد ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سونگ کران کو دنیا کا سب سے بڑا پانی کا تہوار قرار دیا جاتا ہے، جو ہر سال اپریل کے وسط میں منایا جاتا ہے اور اس موقع پر لاکھوں افراد بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق تہوار کے پہلے دو دنوں میں ہی باون افراد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہوئے، جبکہ تقریباً بیالیس فیصد حادثات کی بڑی وجہ تیز رفتاری اور ستائیس اعشاریہ چار فیصد واقعات نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے باعث پیش آئے۔اس تہوار کو خطرناک سات دن بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس دوران زیادہ تر حادثات دوپہر تین بجے سے شام چھ بجے کے درمیان ہوتے ہیں، جبکہ ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنا اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ بھی اموات میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔حکومتی سطح پر حفاظتی مہمات اور سخت قوانین کے باوجود ہر سال حادثات اور ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔رواں سال اس تہوار میں تقریباً پانچ لاکھ غیر ملکی سیاحوں کی آمد متوقع ہے، جس سے ملکی معیشت کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔رپورٹس کے مطابق مقامی عقیدے کے تحت اس تہوار میں پانی کا استعمال صفائی اور گزشتہ سال کی برائیوں کو دھونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔