تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

سونگ کران تہوار خونی ثابت، 3 دن میں 191 ہلاکتیں، سینکڑوں حادثات

سونگ کران تہوار خونی ثابت، 3 دن میں 191 ہلاکتیں، سینکڑوں حادثات

تھائی لینڈ( مانیٹرنگ ڈیسک)تھائی لینڈ کے روایتی نئے سال کے تہوار سونگ کران کے دوران خوشیاں غم میں بدل گئیں، جہاں سات روزہ تقریبات کے ابتدائی تین دنوں میں ایک سو اکیانوے افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ نو سو اکاون سے زائد ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق سونگ کران کو دنیا کا سب سے بڑا پانی کا تہوار قرار دیا جاتا ہے، جو ہر سال اپریل کے وسط میں منایا جاتا ہے اور اس موقع پر لاکھوں افراد بڑے شہروں سے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق تہوار کے پہلے دو دنوں میں ہی باون افراد ٹریفک حادثات میں ہلاک ہوئے، جبکہ تقریباً بیالیس فیصد حادثات کی بڑی وجہ تیز رفتاری اور ستائیس اعشاریہ چار فیصد واقعات نشے کی حالت میں گاڑی چلانے کے باعث پیش آئے۔اس تہوار کو خطرناک سات دن بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس دوران زیادہ تر حادثات دوپہر تین بجے سے شام چھ بجے کے درمیان ہوتے ہیں، جبکہ ہیلمٹ کا استعمال نہ کرنا اور غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ بھی اموات میں اضافے کا سبب بنتی ہے۔حکومتی سطح پر حفاظتی مہمات اور سخت قوانین کے باوجود ہر سال حادثات اور ہلاکتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔رواں سال اس تہوار میں تقریباً پانچ لاکھ غیر ملکی سیاحوں کی آمد متوقع ہے، جس سے ملکی معیشت کو بھی خاطر خواہ فائدہ پہنچنے کی امید ہے۔رپورٹس کے مطابق مقامی عقیدے کے تحت اس تہوار میں پانی کا استعمال صفائی اور گزشتہ سال کی برائیوں کو دھونے کی علامت سمجھا جاتا ہے۔