تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

دنیا بھر میں 2026 کا شاندار استقبال، ہر ملک نے اپنی روایت کے مطابق جشن منایا

دنیا بھر میں 2026 کا شاندار استقبال، ہر ملک نے اپنی روایت کے مطابق جشن منایا

نیو یارک( مانیٹرنگ ڈیسک) دنیا نے 2025 کو یادوں، خوشیوں اور اداسیوں کے ساتھ الوداع کہا اور 2026 کو امیدوں کے ساتھ خوش آمدید کہا، جن خوابوں کی تعبیر 2025 میں ممکن نہ ہو سکی تھی وہ 2026 میں پورے ہونے کی امید کی جا رہی ہے۔دنیا میں سب سے پہلے نئے سال کا آغاز بحرالکاہل میں واقع جزیرہ ملک کریباتی سے ہوا، جہاں پاکستانی وقت کے مطابق دوپہر تین بجے سال 2026 شروع ہوا۔ اس کے بعد نیوزی لینڈ میں شام چار بجے اور آسٹریلیا میں شام چھ بجے پاکستانی وقت کے مطابق نئے سال کا شاندار استقبال کیا گیا۔جاپان میں آتش بازی کے ساتھ بدھ مت کے مندروں میں بڑی گھنٹیاں 108 بار بجائی گئیں، جبکہ جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور سنگاپور میں شہریوں اور سیاحوں نے پر جوش تقریبات میں حصہ لیا۔ بنکاک میں دریائے چاو فرایا اور سنگاپور میں مرینا بے کے مقام پر آتش بازی نے آسمان کو رنگ برنگی روشنیوں سے منور کر دیا۔چین کے دارالحکومت بیجنگ میں عظیم دیوار چین کے جویونگ گوان حصے کو خصوصی روشنیوں اور لائٹ بیمز سے روشن کیا گیا، جہاں دیکھنے کے لیے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ یورپ اور مشرق وسطی میں نئے سال کا آغاز نسبتا بعد میں ہوا، جبکہ امریکا میں سب سے آخر میں سال نو داخل ہوتا ہے۔ نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں مشہور کرسٹل بال کے قریب لاکھوں افراد نے جشن منایا۔ماہرین کے مطابق دنیا میں نئے سال کے آغاز کے اوقات میں فرق عالمی ٹائم زون سسٹم کی وجہ سے ہے، جس کے تحت زمین کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے، اور اس کے باعث ہر ملک اپنے وقت، ثقافت اور روایات کے مطابق نئے سال کا جشن مناتا ہے۔