اسلام آباد(پاکستان خبر) اسلام آباد میں سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔جاری اعلامیے کے مطابق ضابطہ اخلاق میں وفاقی آئینی عدالت کا نام بھی شامل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ ضابطہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور وفاقی آئینی عدالت کے ججز پر لاگو ہوگا۔ترمیم شدہ قواعد کے تحت ججز کی سماجی اور ثقافتی تقریبات میں شرکت پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے، تاہم سیاسی اور سفارتی تقریبات میں شرکت کے لیے متعلقہ چیف جسٹس کی پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔اعلامیے کے مطابق شق 12 میں ترمیم کے بعد ججز متعلقہ چیف جسٹس کی اجازت سے ان تقریبات میں شرکت کر سکیں گے، لیکن اجازت کا حصول ضروری ہوگا۔مزید کہا گیا ہے کہ ججز پر دباؤ، شکایات یا عدالتی امور میں مداخلت سے متعلق نئے طریقہ کار کی بھی منظوری دی گئی ہے۔نئے ضابطے کے مطابق شکایت کی صورت میں ہائی کورٹ کے ججز متعلقہ چیف جسٹس کو تحریری طور پر آگاہ کریں گے، جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے ججز بھی اپنے متعلقہ چیف جسٹس اور سینئر ججز کو مطلع کریں گے۔اعلامیے کے مطابق ججز کمیٹی شکایات پر 14 روز کے اندر کارروائی مکمل کرے گی، اور اگر مقررہ مدت میں فیصلہ نہ ہو تو معاملہ سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت خود دیکھے گی۔