تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز ضابطہ اخلاق میں بڑی ترامیم منظور کر لیں

سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز ضابطہ اخلاق میں بڑی ترامیم منظور کر لیں


اسلام آباد(پاکستان خبر) اسلام آباد میں سپریم جوڈیشل کونسل نے ججز کے ضابطہ اخلاق میں اہم ترامیم کی منظوری دے دی ہے۔جاری اعلامیے کے مطابق ضابطہ اخلاق میں وفاقی آئینی عدالت کا نام بھی شامل کر دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ ضابطہ سپریم کورٹ، ہائی کورٹس اور وفاقی آئینی عدالت کے ججز پر لاگو ہوگا۔ترمیم شدہ قواعد کے تحت ججز کی سماجی اور ثقافتی تقریبات میں شرکت پر عائد پابندی ختم کر دی گئی ہے، تاہم سیاسی اور سفارتی تقریبات میں شرکت کے لیے متعلقہ چیف جسٹس کی پیشگی اجازت لازمی قرار دی گئی ہے۔اعلامیے کے مطابق شق 12 میں ترمیم کے بعد ججز متعلقہ چیف جسٹس کی اجازت سے ان تقریبات میں شرکت کر سکیں گے، لیکن اجازت کا حصول ضروری ہوگا۔مزید کہا گیا ہے کہ ججز پر دباؤ، شکایات یا عدالتی امور میں مداخلت سے متعلق نئے طریقہ کار کی بھی منظوری دی گئی ہے۔نئے ضابطے کے مطابق شکایت کی صورت میں ہائی کورٹ کے ججز متعلقہ چیف جسٹس کو تحریری طور پر آگاہ کریں گے، جبکہ سپریم کورٹ آف پاکستان اور وفاقی آئینی عدالت کے ججز بھی اپنے متعلقہ چیف جسٹس اور سینئر ججز کو مطلع کریں گے۔اعلامیے کے مطابق ججز کمیٹی شکایات پر 14 روز کے اندر کارروائی مکمل کرے گی، اور اگر مقررہ مدت میں فیصلہ نہ ہو تو معاملہ سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت خود دیکھے گی۔