تازہ ترین
جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا حج 2027ء کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز، ابتدائی مرحلے میں پاسپورٹ لازمی نہیں گلگت بلتستان اسمبلی: 30 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی کوششیں کمزور پڑ گئی ہیں: علی امین گنڈاپور ٹرمپ کی نیٹو اتحادیوں پر تنقید، ایران معاملے پر اٹلی کو بھی ہدف یوکرین جانے والے ترک مال بردار جہاز پر روسی ڈرون حملہ، مصری شہری ہلاک اسماعیل قانی کی اسرائیل کو جنوبی لبنان سے فوری انخلا کی وارننگ ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ، معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت نیویارک میں کنسرٹ کے دوران افسوسناک حادثہ، ایک شخص جاں بحق ایران امریکا مذاکرات کی افواہیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، ڈالر معمولی سستا ڈیزل کی قیمت میں کمی، ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فیصد تک کمی کا اعلان ورلڈ کپ 2026 میں اون گولز کی غیر معمولی زیادتی، ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان بھارت اے کی ٹرائی سیریز فائنل میں فتح، سری لنکا اے کو 66 رنز سے شکست ورلڈ کپ 2026: جرمن ٹیم کو امریکا میں سخت سیکیورٹی چیک کا سامنا، ویڈیو وائرل ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بنگلہ دیش نے پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے دی
پاکستان خبر

تھائی لینڈ کی شہزادی باجراکیتیابھا 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

تھائی لینڈ کی شہزادی باجراکیتیابھا 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

بنکاک( مانیٹرنگ ڈیسک) تھائی لینڈ کے شاہی محل نے اعلان کیا ہے کہ بادشاہ مہا وجیرالونگ کورن کی بڑی بیٹی شہزادی باجراکیتیابھا نریندرا دیبیاوتی 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔شہزادی گزشتہ چار برس سے شدید علالت کے باعث کومہ میں تھیں اور مختلف طبی مسائل کا سامنا کر رہی تھیں۔ شاہی محل کے مطابق دسمبر 2022 میں ایک دورے کے دوران انہیں دل کی بیماری کے باعث اچانک بے ہوشی کا دورہ پڑا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر دارالحکومت بنکاک منتقل کر کے علاج شروع کیا گیا۔بعد ازاں ان کی حالت میں مسلسل پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، جن میں شدید انفیکشن، آنتوں کی سوزش، کم بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور خون جمنے کے مسائل شامل تھے، جو بالآخر ان کے انتقال کا سبب بنے۔شہزادی باجراکیتیابھا، جنہیں عام طور پر شہزادی بھا کے نام سے جانا جاتا تھا، 1978 میں پیدا ہوئیں۔ وہ اپنی عوامی خدمات، خواتین قیدیوں کی فلاح و بہبود اور سفارتی ذمہ داریوں کے لیے معروف تھیں۔انہوں نے اعلیٰ تعلیم کارنیل یونیورسٹی سے حاصل کی اور قانون کے شعبے میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں مکمل کیں۔ وہ 2006 سے 2011 تک تھائی لینڈ کے اٹارنی جنرل کے دفتر میں وکیل کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔بعد ازاں انہوں نے یورپ کے مختلف ممالک میں تھائی لینڈ کی سفیر کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھائیں اور پھر دوبارہ اٹارنی جنرل کے دفتر سے وابستہ ہو گئیں۔انہوں نے قیدی خواتین کی فلاح کے لیے ایک فلاحی ادارہ بھی قائم کیا اور 2017 میں اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی جانب سے جنوب مشرقی ایشیا میں قانون کی حکمرانی کے لیے خیرسگالی سفیر مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں وہ تھائی فوج میں بھی شامل ہوئیں اور اعلیٰ عسکری ذمہ داریاں انجام دیں۔