تازہ ترین
سابق آرمی چیف جنرل (ر) عبدالوحید کاکڑ انتقال کرگئے شہباز شریف کی رانا مبشر اقبال سے خالہ زاد بھائی کے انتقال پر تعزیت خلائی کچرے سے نمٹنے کے لیے برطانیہ کا روبوٹک مشن تیار کرنے کا منصوبہ یوٹیوب کا نیا فیچر، صارفین اپنی پسند کی ویڈیوز کی فیڈ بنا سکیں گے واٹس ایپ ویب اور ڈیسک ٹاپ کے ذریعے سائبر حملوں کا ہائی الرٹ جاری کلفٹن کے ساحل پر سمندری کچھوا مردہ ملا، پلاسٹک کچرے سے حیات کو خطرہ فیشن شو میں عفت عمر کے ساتھ دلچسپ واقعہ، ویڈیو وائرل ہونے پر ٹرولنگ دانیال ظفر کا صحت پر توجہ دینے کیلئے شوبز سے عارضی وقفے کا اعلان درفشاں سلیم اور ماورا حسین کے لہنگوں میں مماثلت، تصاویر وائرل ابتدائی فلموں کی ناکامی نے فلمی کیریئر متاثر کیا، دیا مرزا کا انکشاف ایل کلاسیکو: ریال میڈرڈ نے بارسلونا کی مسلسل فتوحات کا سلسلہ روک دیا سہ ملکی سیریز: حارث رؤف کے مشورے پر شاداب خان نے ریویو لیا صائم ایوب کی درخواست منظور، صاحبزادہ فرحان قومی اسکواڈ میں شامل دنیا کا ہر بولر چھکے کھاتا ہے، تنقید سے فرق نہیں پڑتا: حارث رؤف بھارتی پنجاب کے وزیراعلیٰ بھگونت مان کو لاہور میں عالمی پنجابی کانفرنس میں شرکت کی دعوت سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے گھر چوری، کھڑکیاں اور دروازے سمیت لاکھوں روپے کا سامان غائب
پاکستان خبر

تھائی لینڈ کی شہزادی باجراکیتیابھا 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

تھائی لینڈ کی شہزادی باجراکیتیابھا 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

بنکاک( مانیٹرنگ ڈیسک) تھائی لینڈ کے شاہی محل نے اعلان کیا ہے کہ بادشاہ مہا وجیرالونگ کورن کی بڑی بیٹی شہزادی باجراکیتیابھا نریندرا دیبیاوتی 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔شہزادی گزشتہ چار برس سے شدید علالت کے باعث کومہ میں تھیں اور مختلف طبی مسائل کا سامنا کر رہی تھیں۔ شاہی محل کے مطابق دسمبر 2022 میں ایک دورے کے دوران انہیں دل کی بیماری کے باعث اچانک بے ہوشی کا دورہ پڑا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر دارالحکومت بنکاک منتقل کر کے علاج شروع کیا گیا۔بعد ازاں ان کی حالت میں مسلسل پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، جن میں شدید انفیکشن، آنتوں کی سوزش، کم بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور خون جمنے کے مسائل شامل تھے، جو بالآخر ان کے انتقال کا سبب بنے۔شہزادی باجراکیتیابھا، جنہیں عام طور پر شہزادی بھا کے نام سے جانا جاتا تھا، 1978 میں پیدا ہوئیں۔ وہ اپنی عوامی خدمات، خواتین قیدیوں کی فلاح و بہبود اور سفارتی ذمہ داریوں کے لیے معروف تھیں۔انہوں نے اعلیٰ تعلیم کارنیل یونیورسٹی سے حاصل کی اور قانون کے شعبے میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں مکمل کیں۔ وہ 2006 سے 2011 تک تھائی لینڈ کے اٹارنی جنرل کے دفتر میں وکیل کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔بعد ازاں انہوں نے یورپ کے مختلف ممالک میں تھائی لینڈ کی سفیر کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھائیں اور پھر دوبارہ اٹارنی جنرل کے دفتر سے وابستہ ہو گئیں۔انہوں نے قیدی خواتین کی فلاح کے لیے ایک فلاحی ادارہ بھی قائم کیا اور 2017 میں اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی جانب سے جنوب مشرقی ایشیا میں قانون کی حکمرانی کے لیے خیرسگالی سفیر مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں وہ تھائی فوج میں بھی شامل ہوئیں اور اعلیٰ عسکری ذمہ داریاں انجام دیں۔