تازہ ترین
فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران پہنچ گئے، امن و سکیورٹی امور پر بات چیت ہوگی شہباز شریف سے مراد علی شاہ کی ملاقات، سیاسی رواداری و مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق بانی پی ٹی آئی کے بعد عام قیدی بھی نجی اسپتال سے علاج کیلئے عدالت پہنچ گئے آزاد کشمیر اسمبلی میں مسلم لیگ ن کی واضح برتری، ارکان کی تعداد 32 ہوگئی ایران پاکستان تعلقات بہترین مراحل میں ہیں: ایرانی ترجمان یورپی یونین کا اسرائیل سے ای ون آبادکاری منصوبہ روکنے کا مطالبہ اسرائیلی فوج نے 3 سال میں 30 سال جتنا گولہ بارود استعمال کرلیا ایران کا آبنائے ہرمز میں قوانین توڑنے والے جہازوں کو جرمانے، حراست اور ضبطی کا انتباہ پیٹرول پر 130، ڈیزل پر 122 روپے سے زائد ٹیکس و مارجنز عائد توانائی شعبے کا سرکلر ڈیٹ 5286 ارب روپے تک پہنچ گیا صدر زرداری کا کیٹی بندر کو اضافی بحری گیٹ وے بنانے کا حکم لاہور میں سبزیاں اور پھل مہنگے، قیمتوں میں 150 روپے کلو تک اضافہ انجری کے باعث نجیہہ علوی ایشیا کپ سے باہر، صدف شمس اسکواڈ میں شامل جیسوال اور اسیتھا فرنینڈو پر میچ فیس کا 25 فیصد جرمانہ 21 سابق کپتانوں کا عمران خان کے طبی معائنے اور علاج کا مطالبہ ایرلنگ ہالینڈ کا نیا ہیئر اسٹائل سوشل میڈیا پر وائرل
پاکستان خبر

تھائی لینڈ کی شہزادی باجراکیتیابھا 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

تھائی لینڈ کی شہزادی باجراکیتیابھا 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

بنکاک( مانیٹرنگ ڈیسک) تھائی لینڈ کے شاہی محل نے اعلان کیا ہے کہ بادشاہ مہا وجیرالونگ کورن کی بڑی بیٹی شہزادی باجراکیتیابھا نریندرا دیبیاوتی 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔شہزادی گزشتہ چار برس سے شدید علالت کے باعث کومہ میں تھیں اور مختلف طبی مسائل کا سامنا کر رہی تھیں۔ شاہی محل کے مطابق دسمبر 2022 میں ایک دورے کے دوران انہیں دل کی بیماری کے باعث اچانک بے ہوشی کا دورہ پڑا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر دارالحکومت بنکاک منتقل کر کے علاج شروع کیا گیا۔بعد ازاں ان کی حالت میں مسلسل پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، جن میں شدید انفیکشن، آنتوں کی سوزش، کم بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور خون جمنے کے مسائل شامل تھے، جو بالآخر ان کے انتقال کا سبب بنے۔شہزادی باجراکیتیابھا، جنہیں عام طور پر شہزادی بھا کے نام سے جانا جاتا تھا، 1978 میں پیدا ہوئیں۔ وہ اپنی عوامی خدمات، خواتین قیدیوں کی فلاح و بہبود اور سفارتی ذمہ داریوں کے لیے معروف تھیں۔انہوں نے اعلیٰ تعلیم کارنیل یونیورسٹی سے حاصل کی اور قانون کے شعبے میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں مکمل کیں۔ وہ 2006 سے 2011 تک تھائی لینڈ کے اٹارنی جنرل کے دفتر میں وکیل کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔بعد ازاں انہوں نے یورپ کے مختلف ممالک میں تھائی لینڈ کی سفیر کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھائیں اور پھر دوبارہ اٹارنی جنرل کے دفتر سے وابستہ ہو گئیں۔انہوں نے قیدی خواتین کی فلاح کے لیے ایک فلاحی ادارہ بھی قائم کیا اور 2017 میں اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی جانب سے جنوب مشرقی ایشیا میں قانون کی حکمرانی کے لیے خیرسگالی سفیر مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں وہ تھائی فوج میں بھی شامل ہوئیں اور اعلیٰ عسکری ذمہ داریاں انجام دیں۔