تازہ ترین
ایران امریکا کشیدگی کسی کے مفاد میں نہیں، پاکستان کا مذاکرات کا مطا لبہ الیکشن قوانین میں اصلاحات کا فیصلہ، الیکشن کمیشن نے لیگل ریفارمز کمیٹی فعال کر دی وفاقی آئینی عدالت کے اہم فیصلے، حارث اسٹیل ملز ریفرنس پر نیب کو نوٹس صدر زرداری نے تین اہم سمریوں کی منظوری دے دی امریکا کا ایران پر مزید حملوں کا دعویٰ، بندر عباس سمیت اہم عسکری تنصیبات نشانے پر ایران کا کویت اور اردن میں امریکی تنصیبات پر حملوں کا دعویٰ میانمار کے قریب دو کشتیاں الٹ گئیں، 500 سے زائد روہنگیا پناہ گزینوں کی ہلاکت کا خدشہ برطانیہ میں 14 سالہ لڑکے پر دہشت گردی کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج پاکستان، ترکیہ بزنس کانفرنس میں سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون بڑھانے پر اتفاق پاکستان کی سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کے رعایتی آئل فنانسنگ پیکیج کی درخواست سیاسی بینر لہرانے پر ارجنٹائن کو فیفا کارروائی کا سامنا متو قع واشنگٹن فریڈم نے ٹی ٹوئنٹی تاریخ کا سب سے بڑا ہدف حاصل کر لیا ماڈل ہما سلیم کا نامعلوم کرکٹر پر ہراسانی کا الزام، قانونی کارروائی کا اعلان مفتی عبدالقوی کا خود کو ’ٹھرکی‘ قرار دینے کا بیان وائرل یوٹیوب نے کم معیار کے مواد پر مونیٹائزیشن سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا شدید شمسی طوفان ٹیکنالوجی اور مواصلاتی نظام کے لیے بڑا خطرہ قرار
پاکستان خبر

تھائی لینڈ کی شہزادی باجراکیتیابھا 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

تھائی لینڈ کی شہزادی باجراکیتیابھا 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں

بنکاک( مانیٹرنگ ڈیسک) تھائی لینڈ کے شاہی محل نے اعلان کیا ہے کہ بادشاہ مہا وجیرالونگ کورن کی بڑی بیٹی شہزادی باجراکیتیابھا نریندرا دیبیاوتی 47 برس کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔شہزادی گزشتہ چار برس سے شدید علالت کے باعث کومہ میں تھیں اور مختلف طبی مسائل کا سامنا کر رہی تھیں۔ شاہی محل کے مطابق دسمبر 2022 میں ایک دورے کے دوران انہیں دل کی بیماری کے باعث اچانک بے ہوشی کا دورہ پڑا تھا، جس کے بعد انہیں فوری طور پر دارالحکومت بنکاک منتقل کر کے علاج شروع کیا گیا۔بعد ازاں ان کی حالت میں مسلسل پیچیدگیاں پیدا ہوئیں، جن میں شدید انفیکشن، آنتوں کی سوزش، کم بلڈ پریشر، دل کی دھڑکن میں بے ترتیبی اور خون جمنے کے مسائل شامل تھے، جو بالآخر ان کے انتقال کا سبب بنے۔شہزادی باجراکیتیابھا، جنہیں عام طور پر شہزادی بھا کے نام سے جانا جاتا تھا، 1978 میں پیدا ہوئیں۔ وہ اپنی عوامی خدمات، خواتین قیدیوں کی فلاح و بہبود اور سفارتی ذمہ داریوں کے لیے معروف تھیں۔انہوں نے اعلیٰ تعلیم کارنیل یونیورسٹی سے حاصل کی اور قانون کے شعبے میں ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں مکمل کیں۔ وہ 2006 سے 2011 تک تھائی لینڈ کے اٹارنی جنرل کے دفتر میں وکیل کے طور پر خدمات انجام دیتی رہیں۔بعد ازاں انہوں نے یورپ کے مختلف ممالک میں تھائی لینڈ کی سفیر کے طور پر بھی ذمہ داریاں نبھائیں اور پھر دوبارہ اٹارنی جنرل کے دفتر سے وابستہ ہو گئیں۔انہوں نے قیدی خواتین کی فلاح کے لیے ایک فلاحی ادارہ بھی قائم کیا اور 2017 میں اقوام متحدہ کے ایک ادارے کی جانب سے جنوب مشرقی ایشیا میں قانون کی حکمرانی کے لیے خیرسگالی سفیر مقرر کیا گیا۔ بعد ازاں وہ تھائی فوج میں بھی شامل ہوئیں اور اعلیٰ عسکری ذمہ داریاں انجام دیں۔