تازہ ترین
ٹائمز اسکوائر میں چاقو حملہ، بینک آف امریکا کی نائب صدر ہلاک شام کی خفیہ جوہری سرگرمیوں سے متعلق تمام سوالات حل: آئی اے ای اے طالبان حکومت پانچ سال بعد بھی جامع نظام دینے میں ناکام: اعلامیہ ایران کا عرب ممالک سے امریکی افواج نکالنے کا مطالبہ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی، ہنڈرڈ انڈیکس 1700 پوائنٹس گرگیا اگست میں مہنگائی 11.2 فیصد، ایک ماہ بعد پھر ڈبل ڈیجٹ میں داخل کاروباری اوقات میں 30 منٹ اضافے کی سفارش، بجلی مہنگی ہونے کا خدشہ امریکا ایران کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مزید مہنگا مصباح الحق کا پی سی بی سے اختلافات پر استعفیٰ، بحران شدت اختیار کرگیا قومی ہاکی چیمپئن شپ کی انعامی رقم میں 10 گنا اضافہ پاکستان کرکٹ کی ساکھ میدان میں کامیابی سے بحال ہوگی:محمد یوسف لارڈز ٹیسٹ شکست، پی سی بی کے مزید سخت فیصلوں کا امکان مالینی شرما کی شوبز سے دور نئی زندگی نے مداحوں کو حیران کردیا فریال گوہر کا 9 سالہ ازدواجی زندگی میں تشدد پر انکشاف مشی خان نے فریال گوہر کو سابق شوہر کے دعووں پر تنقید کا نشانہ بنا دیا ٹوٹا ہوا اسکرین پروٹیکٹر استعمال کرنا کتنا محفوظ ہے؟
پاکستان خبر

طالبان دور میں سابق افغان اہلکاروں کے لیے خطرات بڑھ گئے، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں تشویشناک انکشاف

طالبان دور میں سابق افغان اہلکاروں کے لیے خطرات بڑھ گئے، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں تشویشناک انکشاف

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سابق سرکاری اور فوجی اہلکاروں کو درپیش سکیورٹی خدشات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران متعدد سابق اہلکار ہدفی کارروائیوں کا نشانہ بنے ہیں۔اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق صرف 2025 کے دوران کم از کم 123 سابق افغان فوجی اہلکار مختلف واقعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی کیسز میں ان واقعات کی مکمل تحقیقات ممکن نہ ہو سکیں، جس کے باعث اہلکاروں اور ان کے خاندانوں میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کے حلقوں کے مطابق بعض سابق افغان اہلکار ملک سے باہر بھی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 24 دسمبر 2025 کو تہران میں ایک سابق افغان کمانڈر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں وہ جانبر نہ ہو سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ایسے حملوں میں ملوث ہونے کے اعترافی بیانات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں سابق فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے الزامات شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال افغانستان میں انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہی ہے، جبکہ عالمی اداروں نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔