تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

طالبان دور میں سابق افغان اہلکاروں کے لیے خطرات بڑھ گئے، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں تشویشناک انکشاف

طالبان دور میں سابق افغان اہلکاروں کے لیے خطرات بڑھ گئے، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں تشویشناک انکشاف

کابل( مانیٹرنگ ڈیسک) افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد سابق سرکاری اور فوجی اہلکاروں کو درپیش سکیورٹی خدشات مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حالیہ برسوں کے دوران متعدد سابق اہلکار ہدفی کارروائیوں کا نشانہ بنے ہیں۔اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق صرف 2025 کے دوران کم از کم 123 سابق افغان فوجی اہلکار مختلف واقعات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کئی کیسز میں ان واقعات کی مکمل تحقیقات ممکن نہ ہو سکیں، جس کے باعث اہلکاروں اور ان کے خاندانوں میں خوف کی فضا پائی جاتی ہے۔بین الاقوامی میڈیا اور انسانی حقوق کے حلقوں کے مطابق بعض سابق افغان اہلکار ملک سے باہر بھی حملوں کا نشانہ بنے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 24 دسمبر 2025 کو تہران میں ایک سابق افغان کمانڈر پر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں وہ جانبر نہ ہو سکے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض سکیورٹی اہلکاروں کی جانب سے ایسے حملوں میں ملوث ہونے کے اعترافی بیانات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں سابق فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنانے کے الزامات شامل ہیں۔ماہرین کے مطابق یہ صورتحال افغانستان میں انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہی ہے، جبکہ عالمی اداروں نے اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شفاف تحقیقات اور متاثرہ خاندانوں کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔