تازہ ترین
جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا حج 2027ء کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز، ابتدائی مرحلے میں پاسپورٹ لازمی نہیں گلگت بلتستان اسمبلی: 30 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی کوششیں کمزور پڑ گئی ہیں: علی امین گنڈاپور ٹرمپ کی نیٹو اتحادیوں پر تنقید، ایران معاملے پر اٹلی کو بھی ہدف یوکرین جانے والے ترک مال بردار جہاز پر روسی ڈرون حملہ، مصری شہری ہلاک اسماعیل قانی کی اسرائیل کو جنوبی لبنان سے فوری انخلا کی وارننگ ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ، معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت نیویارک میں کنسرٹ کے دوران افسوسناک حادثہ، ایک شخص جاں بحق ایران امریکا مذاکرات کی افواہیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، ڈالر معمولی سستا ڈیزل کی قیمت میں کمی، ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فیصد تک کمی کا اعلان ورلڈ کپ 2026 میں اون گولز کی غیر معمولی زیادتی، ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان بھارت اے کی ٹرائی سیریز فائنل میں فتح، سری لنکا اے کو 66 رنز سے شکست ورلڈ کپ 2026: جرمن ٹیم کو امریکا میں سخت سیکیورٹی چیک کا سامنا، ویڈیو وائرل ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بنگلہ دیش نے پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے دی
پاکستان خبر

عنوان: پیغام کربلا

عنوان: پیغام کربلا

جب یزیدیت اقتدار کے ایوانوں میں تخت نشین ہو چکی تھی، جب ملوکیت نے خلافت کے پاکیزہ تصور کو اپنی گرفت میں لے لیا تھا، جب حق کی آواز دبائی جا رہی تھی اور دینِ محمدیؐ کی روح کو مسخ کرنے کی کوششیں عروج پر تھیں، تب تاریخ کو ایک ایسے مردِ حق کی ضرورت تھی جو باطل کے سامنے سینہ سپر ہو کر کھڑا ہو جائے۔ ایک ایسا کردار جو دنیا کو بتا دے کہ اقتدار کی چمک حق و صداقت کا معیار نہیں ہوتی، بلکہ حق وہی ہے جو ظلم کے سامنے سر نہ جھکائے۔

یہ عظیم فریضہ نواسۂ رسولؐ، امام حسینؑ نے سرانجام دیا۔ انہوں نے اپنے نانا حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے دین کی بقا اور اس کی حقیقی روح کو محفوظ رکھنے کے لیے وہ قربانی پیش کی جس کی مثال تاریخِ انسانی میں نہیں ملتی۔ کربلا کے تپتے ہوئے ریگزار میں انہوں نے نہ صرف اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا بلکہ اپنے اہلِ بیت، رفقا اور جگر گوشوں کی قربانیاں بھی راہِ حق میں پیش کر دیں۔ مگر باطل کے سامنے سرِ تسلیم خم نہ کیا۔

شہدائے کربلا نے اپنے خون سے تاریخ کے صفحات پر یہ ابدی پیغام رقم کر دیا کہ ظلم خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، حق کا علم بلند رکھنے والے کبھی شکست نہیں کھاتے۔ حسینیت کا مفہوم یہی ہے کہ ہر ظالم، جابر اور استحصالی قوت کے سامنے ڈٹ جانا، حق کی خاطر ہر قربانی دینے کے لیے تیار رہنا اور اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنا۔ جبکہ یزیدیت ہر دور میں ظلم، جبر، آمریت اور حق تلفی کی علامت بن کر سامنے آتی ہے۔

کربلا ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ سر کٹایا جا سکتا ہے مگر باطل کے سامنے سر جھکایا نہیں جا سکتا۔ کربلا کا فلسفہ یہی ہے ہر ظالم کی آگے ڈٹ جائیں یہی وجہ ہے کہ امام حسینؑ اور ان کے جانثار ساتھی رہتی دنیا تک حریت، استقامت، صبر اور حق پرستی کی روشن علامت بن گئے ہیں۔ ان کا پیغام آج بھی انسانیت کو پکار پکار کر کہتا ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار کرنا نہیں، بلکہ حق کے لیے ڈٹ کر کھڑا ہونا ہی حقیقی حسینیت ہے۔