واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے میزائل ذخائر میں نمایاں کمی آ چکی ہے اور اب اس کے پاس معاہدہ کرنے کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں بچا۔امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے پاس اب صرف 21 سے 22 فیصد میزائل باقی رہ گئے ہیں۔ ان کے مطابق ایران ایسے فیصلے کرنے پر مجبور ہو جائے گا جن کا اس نے پہلے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ موجودہ کشیدگی اور اس کا حل فوری طور پر ممکن نہیں ہوتا، تاہم صورتحال اس سمت میں جا رہی ہے جہاں ایران کو مذاکرات اور معاہدے کی طرف آنا پڑے گا۔اس سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ ایران کے معاملے پر نمایاں پیش رفت کر رہی ہے۔ انہوں نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ ایران اس وقت جوہری ہتھیار رکھنے کی پوزیشن میں نہیں ہے اور امریکا اپنی پالیسی پر قائم ہے۔آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ اس اہم بحری گزرگاہ سے بڑی تعداد میں آئل ٹینکرز گزر رہے ہیں، تاہم انہوں نے کوئی مخصوص تعداد نہیں بتائی۔ان کے مطابق آبنائے ہرمز سے متعلق صورتحال کے حل میں زیادہ وقت نہیں لگنا چاہیے، اور جیسے ہی حالات معمول پر آئیں گے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ تیل کی قیمتیں نہ صرف کم ہوں گی بلکہ ممکن ہے کہ موجودہ سطح سے بھی نیچے آ جائیں۔
ایران کے میزائل ذخائر میں کمی، مذاکرات ناگزیر ہوں گے:ٹرمپ کا دعویٰ
واپس خبروں پر
Category:
عالمی خبریں