تازہ ترین
جسٹس منیب اختر نے قائم مقام چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھا لیا حج 2027ء کے لیے آن لائن رجسٹریشن کا آغاز، ابتدائی مرحلے میں پاسپورٹ لازمی نہیں گلگت بلتستان اسمبلی: 30 نو منتخب ارکان نے حلف اٹھا لیا بانی پی ٹی آئی کی رہائی کی کوششیں کمزور پڑ گئی ہیں: علی امین گنڈاپور ٹرمپ کی نیٹو اتحادیوں پر تنقید، ایران معاملے پر اٹلی کو بھی ہدف یوکرین جانے والے ترک مال بردار جہاز پر روسی ڈرون حملہ، مصری شہری ہلاک اسماعیل قانی کی اسرائیل کو جنوبی لبنان سے فوری انخلا کی وارننگ ٹیکسٹائل برآمدات میں اضافہ، معیشت کے استحکام کی جانب اہم پیش رفت نیویارک میں کنسرٹ کے دوران افسوسناک حادثہ، ایک شخص جاں بحق ایران امریکا مذاکرات کی افواہیں، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں اتار چڑھاؤ، ڈالر معمولی سستا ڈیزل کی قیمت میں کمی، ٹرانسپورٹ کرایوں میں 15 فیصد تک کمی کا اعلان ورلڈ کپ 2026 میں اون گولز کی غیر معمولی زیادتی، ریکارڈ ٹوٹنے کا امکان بھارت اے کی ٹرائی سیریز فائنل میں فتح، سری لنکا اے کو 66 رنز سے شکست ورلڈ کپ 2026: جرمن ٹیم کو امریکا میں سخت سیکیورٹی چیک کا سامنا، ویڈیو وائرل ویمنز ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ: بنگلہ دیش نے پاکستان کو 23 رنز سے شکست دے دی
پاکستان خبر

ٹرمپ ایرانی میڈیا پر برہم، ایران امریکا معاہدے کی لیک تفصیلات کو جعلی قرار دے دیا

ٹرمپ ایرانی میڈیا پر برہم، ایران امریکا معاہدے کی لیک تفصیلات کو جعلی قرار دے دیا

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک) واشنگٹن میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی میڈیا میں امن معاہدے کی تفصیلات سامنے آنے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ معلومات جعلی ہیں اور ایران کی جانب سے میڈیا پر جاری کی جانے والی شرائط کا کسی بھی تحریری معاہدے سے کوئی تعلق نہیں۔واضح رہے کہ صدر ٹرمپ نے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا ایک بیان بھی سوشل میڈیا پر شیئر کیا تھا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر غیر معمولی حد تک اتفاق پایا جا رہا ہے۔دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کے منجمد اثاثوں کی بحالی سے متعلق خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف معاہدے پر دستخط کی صورت میں فنڈز جاری کیے جانے کی بات درست نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ممکنہ معاہدہ اس طرح ترتیب دیا جائے گا جس میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کے تحفظات کو مکمل طور پر مدنظر رکھا جائے گا، جبکہ ایران کی جانب سے شرائط پوری ہونے کی صورت میں ہی مالی معاونت جاری کی جائے گی۔