تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

یو اے ای میں ایمریٹس آئی ڈی صرف 24 گھنٹوں میںشناختی کارڈ فراہم کرنے کی نئی سہولت متعارف

یو اے ای میں ایمریٹس آئی ڈی صرف 24 گھنٹوں میںشناختی کارڈ فراہم کرنے کی نئی سہولت متعارف

دبئی( مانیٹرنگ ڈیسک)متحدہ عرب امارات نے رہائشیوں کے لیے ایمریٹس آئی ڈی کے اجرا کے عمل کو مزید تیز کرتے ہوئے صرف 24 گھنٹوں میں شناختی کارڈ فراہم کرنے کی نئی سہولت متعارف کرا دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عوام کو کم وقت میں آسان اور مؤثر شناختی خدمات فراہم کرنا ہے۔نئی سروس کے تحت درخواست گزار ضروری معلومات، بائیومیٹرک تفصیلات اور مطلوبہ دستاویزات جمع کرانے کے بعد اپنا ایمریٹس آئی ڈی محض ایک دن کے اندر حاصل کر سکیں گے، جبکہ ماضی میں یہ عمل کئی دن یا بعض اوقات ہفتوں پر محیط ہوتا تھا۔ متعلقہ حکام کے مطابق اس سہولت سے نہ صرف وقت کی بچت ہو گی بلکہ حکومتی خدمات تک رسائی بھی مزید بہتر بنائی جا سکے گی۔اتھارٹیز نے شہریوں اور رہائشیوں کو ہدایت کی ہے کہ درخواست کے دوران تمام معلومات درست اور مکمل فراہم کریں تاکہ شناختی کارڈ کے اجرا میں کسی قسم کی تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ مستقبل میں مزید ڈیجیٹل سہولیات متعارف کروانے پر کام جاری ہے تاکہ شناختی نظام کو مزید جدید اور مؤثر بنایا جا سکے۔ماہرین کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات متحدہ عرب امارات کو ڈیجیٹل گورننس اور عوامی خدمات کے شعبے میں نمایاں مقام دلاتے ہیں، جس سے رہائشیوں کو تیز، شفاف اور قابلِ اعتماد سہولیات فراہم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ بین الاقوامی ماڈلز کے مقابلے میں یہ پیش رفت ایک اہم سنگِ میل قرار دی جا رہی ہے۔