تازہ ترین
پشاور سکول حادثہ، مالکان اور ٹھیکیدار کے خلاف مقدمہ درج پنجاب اے آئی دور میں، خیبرپختونخوا پتھر کے زمانے میں ہے، مریم نواز پشاور اسکول سانحہ، ریسکیو 1122 نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی پی ٹی آئی مثبت کردار ادا کرے تو مذاکرات پر غور ہوسکتا ہے، رانا ثنا اللہ پاکستان سعودی عرب کی سلامتی اور خودمختاری کے تحفظ میں ساتھ کھڑا ہے، وزیراعظم روسی فوج کا خارکوف کی دو آبادیوں پر قبضے کا دعویٰ، یوکرین کے 1105 اہلکار ہلاک و زخمی مشرقِ وسطیٰ کی جنگیں ماحولیاتی نسل کشی ہیں، ایرانی صدر وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی، 64 فیصد امریکی ناخوش روسی ڈیزل کی امریکا کو پہلی کھیپ تین ہفتوں میں بھیجنے کا امکان عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں معمولی کمی ریکارڈ پاکستان، جنوبی کوریا اور مصر میں اربوں کی سرمایہ کاری پر غور پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی، انڈیکس 474 پوائنٹس بڑھ گیا چینی وزیر خزانہ کا پاکستان کی معاشی بہتری کا خیرمقدم، تعاون بڑھانے پر اتفاق ٹیسلا کی نئی روڈسٹر کی رونمائی، اڑنے والی گاڑی کی تیاری 2028 میں متوقع بغیر کھڑکیوں کے جدید مسافر طیارے کی تیاری، پہلی آزمائشی پرواز 2027 میں متوقع چیٹ جی پی ٹی کے خلاف آٹھ امریکی ریاستوں کے مقدمات، بچوں کی سلامتی پر تحفظات
پاکستان خبر

یو اے ای قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا:گورنر اسٹیٹ

یو اے ای قرضہ واپس نہیں مانگ رہا، زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا:گورنر اسٹیٹ

اسلام آباد( کامرس ڈیسک) گورنر اسٹیٹ بینک جمیل احمد نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا ہے کہ یو اے ای دو ارب ڈالر کا قرضہ واپس نہیں مانگ رہا اور پہلے سالانہ بنیادوں پر رول اوور ہونے والا قرضہ اب ماہانہ بنیادوں پر رول اوور کیا جا رہا ہے۔انہوں نے بتایا کہ پہلے ملک کا ڈیبٹ سورسنگ چار ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، جو اب کم ہو گیا ہے، اور اس وقت ملکی برآمدات دباؤ میں ہیں۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان، وزیر خزانہ، وزارت خزانہ کے حکام، اسٹیٹ بینک حکام اور دیگر موجود تھے۔گورنر نے کہا کہ اس سال مہنگائی کی شرح پانچ سے سات فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔ 2022ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ساڑھے سترہ ارب ڈالر تھا، جسے کم کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے اور یہ 2023ء میں کم ہو کر جی ڈی پی کے ایک فیصد کے برابر ہو گیا۔ پچھلے سال دو ارب ڈالر کا سرپلس رہا، جو چودہ سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پہلے ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر 2.8 ارب ڈالر تھے جو صرف دو ہفتے کی درآمد کے برابر تھے، مگر اب 16 ارب ڈالر سے زائد ہو گئے ہیں۔ بیرونی قرضہ سات سال میں 55 ارب ڈالر سے بڑھ کر 103 ارب ڈالر ہو گیا تھا اور پچھلے سال سے اسی سطح پر برقرار ہے۔ موجودہ کل قرضہ 148 ارب ڈالر ہے، جس میں حکومت کا حصہ 103 ارب ڈالر کے لگ بھگ ہے۔گورنر نے بتایا کہ جون 2026ء تک زرمبادلہ کے ذخائر 18 ارب ڈالر تک اور دسمبر 2026ء تک 20 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔