تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

برطانیہ اور امارات میں اہم مشاورت، خطے کی سلامتی اور جنگ بندی پر اتفاق

برطانیہ اور امارات میں اہم مشاورت، خطے کی سلامتی اور جنگ بندی پر اتفاق

ابو ظہبی ( مانیٹرنگ ڈیسک) سر کیئر سٹارمر نے متحدہ عرب امارات کا دورہ کیا جہاں ان کی ملاقات شیخ محمد بن زاید النہیان سے ہوئی۔خلیجی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے خطے کی تازہ صورتحال پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا۔ ملاقات میں مشرق وسطیٰ کی موجودہ کشیدگی، علاقائی و عالمی سلامتی، بحری سلامتی، توانائی کی ترسیل اور عالمی معیشت پر اثرات پر گفتگو کی گئی۔رپورٹس کے مطابق حالیہ کشیدگی، ایران کے ساتھ جنگ بندی کے نازک مرحلے اور آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی کی اہمیت خصوصی طور پر زیر بحث آئی، کیونکہ یہ گزرگاہ عالمی توانائی اور تجارت کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔سرکاری بیان کے مطابق شیخ محمد بن زاید نے اس بات پر زور دیا کہ خطے کے بحرانوں کا حل سفارت کاری، مذاکرات اور امن کے ذریعے نکالا جانا چاہیے۔ اس موقع پر کیئر سٹارمر نے امارات کے ساتھ برطانیہ کی یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ یو اے ای کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے اس کے ساتھ کھڑا ہے۔دونوں رہنماؤں نے اس بات پر بھی اتفاق کیا کہ ایسے عملی اقدامات ناگزیر ہیں جو جنگ بندی کو پائیدار بنانے اور اہم بحری گزرگاہوں کو محفوظ رکھنے میں مدد فراہم کریں۔برطانوی ذرائع کے مطابق اس دورے کا مقصد صرف فوری بحران پر ردعمل دینا نہیں بلکہ اتحادی ممالک کے ساتھ مشاورت کے ذریعے وسیع علاقائی حکمت عملی کو آگے بڑھانا بھی تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ابو ظہبی اور لندن موجودہ صورتحال میں سلامتی، تجارت، توانائی اور سفارتی روابط کو ایک مربوط حکمت عملی کے تحت دیکھ رہے ہیں۔