تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد پر اقوام متحدہ کے ماہرین کا شدید انتباہ

مغربی کنارے میں آبادکاروں کے تشدد پر اقوام متحدہ کے ماہرین کا شدید انتباہ

نیویارک(مانیٹرنگ ڈیسک) اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے 14 ماہرین نے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں اسرائیلی آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔مشترکہ بیان میں ماہرین نے کہا ہے کہ آبادکاروں کے حملے فلسطینیوں کی روزمرہ زندگی میں خوف و ہراس کا مستقل ذریعہ بن چکے ہیں، جن کے باعث عدم تحفظ، غیر یقینی صورتحال اور جبری نقل مکانی کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ دستخط کنندگان میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ بھی شامل ہیں۔ ماہرین کے مطابق آبادکار تحریک کی جانب سے جاری حملے اسرائیلی حمایت اور خاموش رضامندی کے ساتھ انجام دیے جا رہے ہیں۔اقوام متحدہ کے ماہرین نے مزید کہا کہ تشدد پر مؤثر کارروائی نہ ہونے اور احتساب کے فقدان کے باعث صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے، جس سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور نسلی بے دخلی جیسے خدشات کو تقویت مل رہی ہے۔ماہرین نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال پر فوری توجہ دے اور شہری آبادی کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات یقینی بنائے۔