تازہ ترین
پاکستان کی آبی سلامتی، عالمی فورمز سے رجوع کی درخواست مقرر راولپنڈی میں 6 ماہ کیلئے پاک فوج تعینات کرنے کی منظوری وزیراعظم کی سیلاب متاثرین کے خاندانوں اور تباہ شدہ گھروں کیلئے مالی امداد کی ہدایت عمران خان کی اسپتال منتقلی: عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر سپریم کورٹ میں توہینِ عدالت کی درخواست بنگلادیش کا پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے دفاعی فریم ورک میں شمولیت پر مثبت عندیہ راجستھان میں کاکروچ جنتا پارٹی کارکنوں پر حملے کا الزام، بی جے پی سے وابستگی کا دعویٰ افغانستان میں طالبان مخالف مسلح مزاحمت میں تیزی، بدخشاں میں حملے عالمی میڈیا نے بھارتی دہشتگردی کے چہرے کو بے نقاب کردیا پاکستان میں ورچوئل اثاثہ جات کیلئے لائسنسنگ نظام متعارف آئی ایم ایف شرط پر اربوں ڈالر کی درآمدی بے ضابطگیاں دور، ڈیٹا اپ ڈیٹ درآمدی چینی میں سے ایک لاکھ 8 ہزار ٹن برآمد کرنے کا فیصلہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، 100 انڈیکس 2938 پوائنٹس گر گیا ورلڈ کپ فائنل جھگڑا، فیفا نے ارجنٹینا اور اسپین کے کھلاڑیوں پر پابندیاں لگا دیں ورلڈ تائیکوانڈو کپ: ایران مجموعی طور پر فاتح، پومزے میں پاکستان کی حکمرانی مچل اسٹارک کی تباہ کن بولنگ، بنگلا دیش 64 رنز پر ڈھیر لیڈز ٹیسٹ میں شکست، سلمان علی آغا نے ٹیم کی خامیوں کی نشاندہی کردی
پاکستان خبر

سلامتی کونسل کی امریکا پر تنقید، ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت

سلامتی کونسل کی امریکا پر تنقید، ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت


نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس اور چین نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران کے معاملے میں طاقت کے استعمال کو مسترد کر دیا۔سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے روسی مندوب نے اجلاس کو ایک “سرکس” قرار دیا اور کہا کہ یہ نشست عالمی امن کے فروغ کے لیے ہونی چاہیے تھی، نہ کہ ایران کے داخلی امور میں مداخلت کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض بیرونی قوتیں دانستہ طور پر ایران میں موجود صورتحال کو ہوا دے رہی ہیں۔روسی مندوب نے واضح کیا کہ ایران پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ وہ کسی قسم کی کشیدگی یا تصادم نہیں چاہتا، تاہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت کے لیے شہریوں اور املاک کا تحفظ اولین ترجیح ہے، جبکہ امریکی بیانات جن میں ایرانی عوام کو ریاستی اداروں پر قبضے کی ترغیب دی گئی، کسی بھی ملک کی خودمختاری کے منافی ہیں۔ان کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کی حمایت میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر موجود ہے، اور اگر امریکا نے کوئی کارروائی کی تو پورا خطہ مزید عدم استحکام اور بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ روسی مندوب نے اس موقع پر مسائل کے پرامن حل کے لیے تعاون کی پیشکش بھی کی۔