تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

سلامتی کونسل کی امریکا پر تنقید، ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت

سلامتی کونسل کی امریکا پر تنقید، ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی مخالفت


نیویارک( مانیٹرنگ ڈیسک) اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں روس اور چین نے امریکا پر سخت تنقید کرتے ہوئے ایران کے معاملے میں طاقت کے استعمال کو مسترد کر دیا۔سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے روسی مندوب نے اجلاس کو ایک “سرکس” قرار دیا اور کہا کہ یہ نشست عالمی امن کے فروغ کے لیے ہونی چاہیے تھی، نہ کہ ایران کے داخلی امور میں مداخلت کے لیے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض بیرونی قوتیں دانستہ طور پر ایران میں موجود صورتحال کو ہوا دے رہی ہیں۔روسی مندوب نے واضح کیا کہ ایران پہلے ہی اعلان کر چکا ہے کہ وہ کسی قسم کی کشیدگی یا تصادم نہیں چاہتا، تاہم کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی حکومت کے لیے شہریوں اور املاک کا تحفظ اولین ترجیح ہے، جبکہ امریکی بیانات جن میں ایرانی عوام کو ریاستی اداروں پر قبضے کی ترغیب دی گئی، کسی بھی ملک کی خودمختاری کے منافی ہیں۔ان کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر اور حکومت کی حمایت میں عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر موجود ہے، اور اگر امریکا نے کوئی کارروائی کی تو پورا خطہ مزید عدم استحکام اور بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ روسی مندوب نے اس موقع پر مسائل کے پرامن حل کے لیے تعاون کی پیشکش بھی کی۔