تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

آبنائے ہرمز کھولنے پر ابہام، جہاز رانی بدستور متاثر

آبنائے ہرمز کھولنے پر ابہام، جہاز رانی بدستور متاثر

 تہران( مانیٹرنگ ڈیسک)میں امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھولنے کے معاملے پر تاحال غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔پینٹاگون میں میڈیا بریفنگ کے دوران امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دعویٰ کیا کہ آبنائے ہرمز کھل چکی ہے اور امریکی افواج خطے میں موجود رہیں گی تاکہ معاہدے پر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔دوسری جانب ایران کے ایک سینئر عہدیدار نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ابھی مکمل طور پر بحال نہیں ہوئی اور اسے مرحلہ وار اور محدود انداز میں کھولنے پر غور کیا جا رہا ہے، جو ممکنہ طور پر آئندہ چند روز میں ممکن ہو سکتا ہے۔ایرانی حکام کے مطابق ابتدائی مرحلے میں جہازوں کی آمدورفت ایرانی فوج کی نگرانی اور ہم آہنگی کے تحت ہوگی، جبکہ مکمل بحالی کا انحصار مذاکرات میں پیش رفت پر ہوگا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جنگ بندی کے باوجود فوری طور پر جہاز رانی معمول پر آنا ممکن نہیں اور اعتماد کی بحالی میں وقت درکار ہوگا۔ بحری تجزیہ کاروں کے مطابق کئی جہاز اب بھی اس گزرگاہ میں داخل ہونے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ صورتحال دوبارہ کشیدہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔عالمی شپنگ کمپنیوں نے بھی احتیاطی پالیسی برقرار رکھتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مکمل استحکام آنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔رپورٹس کے مطابق اس وقت بڑی تعداد میں بحری جہاز خطے میں رکے ہوئے ہیں اور مکمل آپریشن کی بحالی میں وقت لگے گا، جس کے باعث عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل متاثر رہنے کا امکان ہے۔واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل سپلائی کا اہم راستہ ہے، جس کی بندش نے عالمی معیشت پر نمایاں اثرات مرتب کیے تھے۔