تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

امریکی ادارے کا بھارتی اقلیتوں پر مظالم پر تشویش کا اظہار

امریکی ادارے کا بھارتی اقلیتوں پر مظالم پر تشویش کا اظہار

وا شنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی نے بھارت میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں اور مسیحیوں کے خلاف انتہا پسند حملوں اور مظالم پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ کمیشن کے مطابق موجودہ سال کے آغاز سے بھارتی مسیحیوں پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے، جس میں اوڑیسہ میں ایک پادری کو بدترین تشدد کا نشانہ بنایا جانا شامل ہے۔کمیشن نے کہا کہ مذہب کی جبری تبدیلی کے الزامات پر اقلیتوں کو غیر قانونی حراست میں رکھا جاتا ہے اور ان کے خلاف سفاکانہ حملے کیے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اترپردیش میں گھر کے اندر عبادت کرنے والے 12 مسلمانوں کو حراست میں لیا جانا ایک خطرناک پیش رفت ہے۔امریکی ادارے کا کہنا ہے کہ آر ایس ایس کے ہندوتوا نظریے پر قائم مودی حکومت اپنے اقتدار کو قائم رکھنے کے لیے اقلیتوں کے خلاف منظم اقدامات کر رہی ہے اور مذہبی اقلیتوں کو قومی اور سماجی دھارے سے الگ کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔بین الاقوامی ماہرین کے مطابق مودی حکومت کی نفرت پر مبنی پالیسیوں نے بھارت میں مذہبی اقلیتوں کے بنیادی حقوق اور محفوظ مستقبل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے، اور عالمی سطح پر یہ معاملہ تشویش کا باعث بن رہا ہے۔