تازہ ترین
حکومت اور پی ٹی آئی میں خفیہ مذاکرات نہیں ہو رہے، بات ہوئی تو کھل کر ہوگی: شوکت یوسفزئی خیبر پختونخوا میں کسی کو بے گھر نہیں کیا جائے گا، پرویز خٹک آئل ریفائنریز کے منافع میں 1100 فیصد اضافہ کیسے ہوا؟ حافظ نعیم محمود اچکزئی کے دہرے معیار پر پی ٹی آئی ارکان کے سوالات پیوٹن کا تہران سے وعدے پورے کرنے کا اعلان، روس ایران تجارت میں 10.4 فیصد اضافہ ٹرمپ کا انتخابات کے بعد ایران پر حملے کا عندیہ، خلیجی ممالک کو خبردار کردیا جنگ بندی کی نئی کوشش، قطر نے ایران کو مجوزہ معاہدے کا مسودہ دے دیا امریکا کی معاہدہ شکنی نئی بات نہیں، وعدے ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرتا ہے: بقائی تعمیراتی شعبے میں بڑی اصلاحات، نئے اداروں کے قیام پر غور عالمی منڈی میں خام تیل مہنگا، قیمت 115 ڈالر فی بیرل سے تجاوز سونا 3,500 روپے مہنگا، فی تولہ قیمت 4 لاکھ 25 ہزار 636 روپے ہوگئی پاکستان میں لیتھیم کی تلاش اور بیٹری سازی میں سرمایہ کاری کے امکانات انسٹاگرام پر 90 منٹ کی ویڈیوز اپ لوڈ کرنے کے فیچر کی آزمائش مائیکروسافٹ کی 60 ہزار ملازمین کو رضاکارانہ علیحدگی کی پیشکش گوگل ڈیپ مائنڈ کا جینی 4 متعارف، آواز کے ساتھ ورچوئل دنیائیں تخلیق کرنے والا اے آئی ماڈل آرگینک سولر سیلز کی کارکردگی اور پائیداری بڑھانے کیلئے نئی ٹیکنالوجی تیار
پاکستان خبر

امریکا کی نئی پالیسی، مخالف قوتوں کے حامیوں کے ویزے منسوخ کرنے کا اعلان

امریکا کی نئی پالیسی، مخالف قوتوں کے حامیوں کے ویزے منسوخ کرنے کا اعلان

وا شنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی محکمۂ خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ ایسے افراد کے ویزے محدود یا منسوخ کیے جا رہے ہیں جو امریکی مفادات کے خلاف مخالف قوتوں کی حمایت کرتے ہیں، اور اب تک چھبیس افراد کے ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پالیسی کے تحت کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی سطح پر امریکی اثر و رسوخ کو مضبوط بنانا ہے، جبکہ اسے ماضی کی ایک اہم حکمت عملی سے متاثر قرار دیا جا رہا ہے۔محکمۂ خارجہ کے مطابق پابندیاں ان افراد پر عائد کی جائیں گی جو دشمن قوتوں کو مالی، سیاسی یا دیگر اہم معاونت فراہم کرتے ہیں، خصوصاً ایسے اقدامات میں جو علاقائی سلامتی، معیشت یا خودمختاری کو نقصان پہنچا سکتے ہوں۔امریکی حکام نے کسی مخصوص ملک کا نام نہیں لیا، تاہم اس اقدام کو خطے میں بڑھتے اثر و رسوخ اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف جاری مہم کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔اس سے قبل بھی امریکی انتظامیہ ناقدین اور سیاسی شخصیات کے خلاف ویزا پابندیاں عائد کر چکی ہے، جبکہ گزشتہ برس فلسطین کے حامی طلبہ کے خلاف بھی اسی نوعیت کی کارروائی کی گئی تھی۔حالیہ پیش رفت میں ایران سے تعلق رکھنے والے کم از کم سات افراد کے ویزے بھی منسوخ کیے گئے، جبکہ بعض لاطینی امریکی رہنماؤں کو بھی اس پالیسی کے تحت نشانہ بنایا گیا ہے۔