تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سفارتی مشن کے تحت سوئٹزرلینڈ روانہ

امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سفارتی مشن کے تحت سوئٹزرلینڈ روانہ

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی ایلچی سٹیو وٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک اہم سفارتی مشن کے تحت سوئٹزرلینڈ روانہ ہو رہے ہیں، جہاں واشنگٹن اور تہران کے درمیان عبوری امن معاہدے کو مستقل علاقائی امن معاہدے میں تبدیل کرنے پر بات چیت متوقع ہے۔امریکی ویب سائٹ ایکسیوس کے مطابق اس اعلیٰ سطحی اجلاس میں سٹیو وٹکوف کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر بھی شریک ہوں گے، جبکہ ایرانی وزیر خارجہ کے بھی اجلاس میں شرکت کا امکان ہے۔یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کے بعد خطے کی صورتحال مزید حساس ہو گئی تھی، اور عالمی سطح پر توانائی و سیکیورٹی خدشات بھی بڑھ گئے تھے۔رپورٹس کے مطابق حالیہ 14 نکاتی عبوری معاہدے کے تحت فریقین کو ایران کے جوہری پروگرام اور دیگر علاقائی تنازعات کے حل کے لیے 60 دن کا وقت دیا گیا ہے۔ایک سینئر امریکی اہلکار کے مطابق اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی بھی طے پا گئی ہے، جس میں امریکا اور قطر کے مذاکرات کاروں نے اہم کردار ادا کیا ہے، جبکہ فریقین نے اس کی تصدیق بھی کی ہے۔لبنانی وزارت صحت کے مطابق جنگ بندی سے قبل ہونے والے فضائی حملوں میں متعدد افراد جاں بحق ہوئے، جبکہ اسرائیلی حکام نے بھی اپنے فوجیوں کی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔