تازہ ترین
صدر اور وزیراعظم کا یوم سیاہ کشمیر پر کشمیریوں سے اظہار یکجہتی پاکستان ہر عالمی فورم پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا، اسحاق ڈار یوم سیاہ کشمیر پر آئی ایس پی آر کا خصوصی نغمہ جاری کشمیری آج یوم سیاہ منا رہے ہیں، عالمی برادری سے حق خودارادیت کا مطالبہ ایران کا مکہ دفاعی اتحاد کے رکن ممالک سے تعاون جاری رکھنے پر اتفاق مغربی کنارے میں اسرائیل پر انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام ایرانی فنڈنگ کے بعد حزب اللہ کی ممکنہ جنگ کیلئے تیاریاں دبئی میں غلط جگہ سے سڑک پار کرنے پر 30 ہزار روپے جرمانہ 5 سال میں 11 ہزار ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دیے جانے کا انکشاف سنگاپور اور سعودی آرامکو کا 2027 سے زیرِ سمندر تیل ذخیرہ کرنے کا منصوبہ ملک بھر میں ایل پی جی مہنگی، لاہور اور جڑواں شہروں میں 600 روپے فی کلو ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی، منیبہ علی پاکستان ٹیم کی کپتان مقرر مقامی ایل پی جی کی نصف سے زائد پیداوار پر 45 کمپنیوں کی اجارہ داری پاتھم نسانکا انجری کے باعث پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز سے باہر پاکستان نے ورلڈ نو میڈ ایم ایم اے ٹورنامنٹ میں دوسری پوزیشن حاصل کرلی ٹینس اسٹار ارینا سبالنکا یو ایف سی مقابلے دیکھنے ابو ظبی پہنچ گئیں
پاکستان خبر

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات، پاکستان کی سفارت کاری آخری مرحلے میں داخل

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات، پاکستان کی سفارت کاری آخری مرحلے میں داخل

اسلام آباد( پاکستان خبر)کراچی میں سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 10 اپریل کو اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کے انعقاد کے لیے پاکستان کی پس پردہ سفارت کاری حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ ابتدائی براہ راست نشست میں تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سازگار ماحول میں بات چیت کی جائے۔باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ مذاکرات میں امریکا اور ایران اپنے تیار کردہ نکات پیش کریں گے، جن کا شق وار جائزہ لیا جائے گا۔ اگر کسی مرحلے پر کسی فریق کو کسی نکتے پر اعتراض ہوا تو اس پر تفصیلی بحث کے بعد درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔سفارتی ذرائع کے مطابق اس نشست میں آئندہ ملاقاتوں کے لیے وقت کا تعین بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ اسلام آباد میں ہونے والی اس بیٹھک میں پاکستان کا کردار رابطہ کار اور ثالث کا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی حکمت عملی دوست ممالک کو اعتماد میں لے کر ترتیب دے دی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ مذاکراتی عمل کئی مراحل پر مشتمل ہو سکتا ہے اور اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام نکات پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے تاکہ جنگ بندی کا باقاعدہ تحریری معاہدہ ممکن ہو سکے۔ ایسے کسی معاہدے میں پاکستان سمیت دیگر اہم ممالک ضامن کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔سفارتی حلقوں کے مطابق یہ مذاکرات اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان ہوں گے اور اگر بات چیت طول پکڑتی ہے تو جنگ بندی کی مدت میں توسیع پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔