تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات، پاکستان کی سفارت کاری آخری مرحلے میں داخل

اسلام آباد میں امریکا ایران مذاکرات، پاکستان کی سفارت کاری آخری مرحلے میں داخل

اسلام آباد( پاکستان خبر)کراچی میں سفارتی ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان 10 اپریل کو اسلام آباد میں مجوزہ مذاکرات کے انعقاد کے لیے پاکستان کی پس پردہ سفارت کاری حتمی مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستان نے دونوں فریقین پر زور دیا ہے کہ ابتدائی براہ راست نشست میں تحمل اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سازگار ماحول میں بات چیت کی جائے۔باخبر حلقوں کا کہنا ہے کہ مجوزہ مذاکرات میں امریکا اور ایران اپنے تیار کردہ نکات پیش کریں گے، جن کا شق وار جائزہ لیا جائے گا۔ اگر کسی مرحلے پر کسی فریق کو کسی نکتے پر اعتراض ہوا تو اس پر تفصیلی بحث کے بعد درمیانی راستہ نکالنے کی کوشش کی جائے گی۔سفارتی ذرائع کے مطابق اس نشست میں آئندہ ملاقاتوں کے لیے وقت کا تعین بھی کیا جا سکتا ہے، جبکہ اسلام آباد میں ہونے والی اس بیٹھک میں پاکستان کا کردار رابطہ کار اور ثالث کا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی حکمت عملی دوست ممالک کو اعتماد میں لے کر ترتیب دے دی ہے۔ذرائع نے مزید بتایا کہ مذاکراتی عمل کئی مراحل پر مشتمل ہو سکتا ہے اور اس کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ تمام نکات پر اتفاق رائے پیدا کیا جائے تاکہ جنگ بندی کا باقاعدہ تحریری معاہدہ ممکن ہو سکے۔ ایسے کسی معاہدے میں پاکستان سمیت دیگر اہم ممالک ضامن کا کردار ادا کر سکتے ہیں۔سفارتی حلقوں کے مطابق یہ مذاکرات اعلیٰ سطحی وفود کے درمیان ہوں گے اور اگر بات چیت طول پکڑتی ہے تو جنگ بندی کی مدت میں توسیع پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔