تازہ ترین
لوئر دیر: پولیس کارروائی میں 6 دہشت گرد ہلاک پاکستان اور ایران کا سکیورٹی و تعاون بڑھانے پر اتفاق صدر زرداری کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آصفہ بھٹو کا خواتین سفارت کاروں کی خدمات کو خراجِ تحسین آبنائے ہرمز: پھنسے ملاحوں اور جہازوں کے انخلا کے لیے بڑا بحری آپریشن شروع امریکی کانگریس کی جنگی اختیارات سے متعلق قرارداد منظور، صدر کو فوجی واپسی کی ہدایت ٹرمپ کا سینیٹ پر شدید ردعمل، ایران سے متعلق ووٹ کو بے معنی قرار دے دیا اسرائیلی وزیر کا بیان: ایران کے خلاف اکیلے کارروائی کا امکان ظاہر آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت بحال، عالمی منڈی میں تیل سستا خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبے کی اضلاع تک توسیع کا فیصلہ یکم جولائی سے گاڑیوں پر ٹیکسز میں بڑی تبدیلیاں، نئی شرطیں نافذ حکومت کا جامشورو پاور پلانٹ کو تھر کول پر منتقل کرنے کا فیصلہ سابق کرکٹر شعیب اختر کے بڑے بھائی شاہد اختر انتقال کر گئے ورلڈ کپ 2026: امریکہ نے ایرانی ٹیم کے سفری قوانین میں نرمی کر دی فیفا ورلڈ کپ 2026: کروشیا نے پاناما کو شکست دے دی ایف آئی ایچ کی پاکستان کے غلط جھنڈے کی نمائش پر باضابطہ معذرت
پاکستان خبر

امریکی جج کا فلسطینی حامی مسلم رہنما صلاح سرسور کی رہائی کا حکم

امریکی جج کا فلسطینی حامی مسلم رہنما صلاح سرسور کی رہائی کا حکم

واشنگٹن( مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی وفاقی جج نے فلسطینیوں کے حامی مسلم رہنما صلاح سرسور کی رہائی کا حکم جاری کر دیا ہے، جنہیں امیگریشن حکام نے تقریباً 80 دن قبل حراست میں لیا تھا۔بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جج جیمز پیٹرک ہینلن نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صلاح سرسور نے یہ مؤقف مضبوط انداز میں پیش کیا کہ انہیں فلسطین کی حمایت میں اظہارِ رائے کے باعث نشانہ بنایا گیا، جو امریکی آئین کے تحت محفوظ حق ہے۔عدالت نے مزید کہا کہ خارجہ پالیسی کے نام پر آزادیٔ اظہار کو محدود نہیں کیا جا سکتا۔53 سالہ صلاح سرسور گزشتہ 32 برس سے امریکا کے قانونی مستقل رہائشی ہیں اور ریاست وسکونسن کی ایک بڑی مسجد کے صدر بھی ہیں۔ انہیں مارچ میں امیگریشن حکام نے اس الزام پر حراست میں لیا تھا کہ انہوں نے اپنی رہائشی درخواست میں بعض معلومات ظاہر نہیں کی تھیں۔عدالتی فیصلے کے بعد انہیں رہا کر دیا گیا، جس پر انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ آزادیٔ اظہار کی فتح ہے اور وہ فلسطین اور انسانی حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرتے رہیں گے۔انسانی حقوق کے کارکنوں نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اظہارِ رائے کے حق کے لیے ایک اہم عدالتی پیش رفت قرار دیا ہے۔